Skip to main content

چھوٹا آدمی ۔ بڑا آدمی

 


کائنات کا سب سے بڑا سچ یہ نہیں کہ ہم سب ایک جیسے ہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ چھوٹا آدمی وہ ہے جو کائنات کے اس تنوع سے خوفزدہ رہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر رنگ اس کے اپنے رنگ میں رنگ جائے، ہر عقیدہ اس کے اپنے عقیدے کا عکس بن جائے اور ہر زبان وہی بولے جو اسے سنائی دیتی ہے۔ وہ دوسروں کے تضادات کو "نقص" سمجھتا ہے اور ان کی انفرادیت کو اپنے وجود کے لیے خطرہ جانتا ہے۔ اس کی دنیا اس کی اپنی انا کی تنگ گلیوں تک محدود ہوتی ہے، جہاں دوسرے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔
لیکن بڑا آدمی وہ ہے جس کا دل کسی کشادہ صحرا یا وسیع سمندر کی مانند ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر درختوں کے پتے ایک جیسے نہیں ہوتے، تو انسانوں کے خیالات ایک کیسے ہو سکتے ہیں؟ وہ اپنے مسلک کے مصلے پر کھڑا ہو کر دوسروں کے اعتقادات کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وہ اپنے کلچر کی ردا اوڑھے ہوئے دوسروں کے لباس، زبان اور لہجے کے فرق کو نفرت کی بنیاد نہیں، بلکہ پہچان کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
بڑا انسان وہ ہے جو تضاد کو قبول کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ جو جانتا ہو کہ زندگی کی اصل خوبصورتی ان ہی مختلف رنگوں کے باہم ملنے میں ہے۔ وہ اونچ نیچ، رنگ نسل اور طبقاتی دیواروں کو گرا کر انسان کو صرف "انسان" کے روپ میں دیکھتا ہے۔ اس کے نزدیک وسعتِ ظرف یہ نہیں کہ آپ دوسروں کو بدل دیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ دوسروں کو ویسا ہی قبول کر لیں جیسے وہ ہیں۔
حقیقت میں بڑا آدمی وہی ہے، جس کی موجودگی میں چھوٹا آدمی خود کو چھوٹا محسوس نہ کرے، بلکہ اسے اپنی انفرادیت کے ساتھ جینے کا حوصلہ مل جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر