Skip to main content

پہلی گواہی


رات کے آخری پہر جب نیند اور بیداری کی سرحدیں آپس میں گڈ مڈ ہونے لگتی ہیں، کائنات ایک عجیب سے سکوت میں سانس لیتی ہے۔ پھر اچانک ہوا کے دوش پر ایک باریک سا ارتعاش لہراتا ہے۔۔ ایک چڑیا کی پہلی چہچہاہٹ۔ یہ محض پرندے کی آواز نہیں، بلکہ عدم کے سناٹے میں وجود کا پہلا دستخط ہے۔
ہم انسان، جو روشنی کو سورج کی مرہونِ منت سمجھتے ہیں، شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ دن کا آغاز بصارت سے نہیں بلکہ سماعت سے ہوتا ہے۔ چڑیوں کا یہ شور، جسے ہم صبح کی سلامی کہ سکتے ہیں، دراصل کائنات کی وہ قدیم ترین زبان ہے جو منطق کے ترازو میں نہیں تولی جا سکتی۔ یہ ننھی جانیں کسی معاوضے یا ستائش کی طلب گار نہیں ہوتیں۔ ان کا گیت کسی اسٹیج کا محتاج نہیں۔ وہ تو بس اس لیے گاتی ہیں کہ وہ "ہیں۔"
ان کی چہچہاہٹ میں ایک عجیب سی بے نیازی چھپی ہوتی ہے۔ وہ کل کے مہیب اندھیرے کا نوحہ نہیں پڑھتیں اور نہ ہی آنے والے طوفانوں کا حساب لگاتی ہیں۔ وہ تو صرف اس ایک لمحے کو، جو ان کی مٹھی میں ہے، اپنی آواز سے بھر دیتی ہیں اور خاموشی کے سینے پر نغمے کاڑھتی ہیں۔
کبھی سوچیے گا کہ کیا ہمارے پاس بھی کوئی ایسا نغمہ ہے جو کسی غرض، کسی صلے اور کسی خوف کے بغیر فضاؤں میں بکھر سکے؟جس صبح کی پہلی گواہی ایک چڑیا نے دی ہے، کیا اس دن کے اختتام تک ہم اپنی انسانیت کی کوئی ایسی ہی گواہی دے پائیں گے؟

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر