رات کے آخری پہر جب نیند اور بیداری کی سرحدیں آپس میں گڈ مڈ ہونے لگتی ہیں، کائنات ایک عجیب سے سکوت میں سانس لیتی ہے۔ پھر اچانک ہوا کے دوش پر ایک باریک سا ارتعاش لہراتا ہے۔۔ ایک چڑیا کی پہلی چہچہاہٹ۔ یہ محض پرندے کی آواز نہیں، بلکہ عدم کے سناٹے میں وجود کا پہلا دستخط ہے۔
ہم انسان، جو روشنی کو سورج کی مرہونِ منت سمجھتے ہیں، شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ دن کا آغاز بصارت سے نہیں بلکہ سماعت سے ہوتا ہے۔ چڑیوں کا یہ شور، جسے ہم صبح کی سلامی کہ سکتے ہیں، دراصل کائنات کی وہ قدیم ترین زبان ہے جو منطق کے ترازو میں نہیں تولی جا سکتی۔ یہ ننھی جانیں کسی معاوضے یا ستائش کی طلب گار نہیں ہوتیں۔ ان کا گیت کسی اسٹیج کا محتاج نہیں۔ وہ تو بس اس لیے گاتی ہیں کہ وہ "ہیں۔"
ان کی چہچہاہٹ میں ایک عجیب سی بے نیازی چھپی ہوتی ہے۔ وہ کل کے مہیب اندھیرے کا نوحہ نہیں پڑھتیں اور نہ ہی آنے والے طوفانوں کا حساب لگاتی ہیں۔ وہ تو صرف اس ایک لمحے کو، جو ان کی مٹھی میں ہے، اپنی آواز سے بھر دیتی ہیں اور خاموشی کے سینے پر نغمے کاڑھتی ہیں۔
کبھی سوچیے گا کہ کیا ہمارے پاس بھی کوئی ایسا نغمہ ہے جو کسی غرض، کسی صلے اور کسی خوف کے بغیر فضاؤں میں بکھر سکے؟جس صبح کی پہلی گواہی ایک چڑیا نے دی ہے، کیا اس دن کے اختتام تک ہم اپنی انسانیت کی کوئی ایسی ہی گواہی دے پائیں گے؟
Comments
Post a Comment