Skip to main content

خسارے کی نمائش


ہماری ساری عمر دراصل ایک پرشکوہ پردہ داری کی نذر ہو جاتی ہے۔ ہم اس خوف کے مارے اپنے گرد لفظوں، ڈگریوں اور دانائی کے جھوٹے حصار تعمیر کرتے ہیں کہ کہیں کوئی ہماری اس معصوم جہالت کو نہ دیکھ لے، جو ہمیں پیدائشی طور پر ودیعت ہوئی تھی۔ عجیب تماشہ ہے کہ ہم اس خالی پن کو بھرنے کے بجائے اسے ڈھانپنے کے فن میں طاق ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کبھی ہم خاموشی کا لبادہ اوڑھ کر خود کو پراسرار عالم ثابت کرتے ہیں اور کبھی غیر ضروری بحث کی گرد اڑا کر اپنی نادانی کے کھوکھلے پن کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
کبھی تنہائی میں ٹھہر کر سوچیے کہ اگر ہم اپنے اس کم علمی یا معصوم جہالت کو ایک بوجھ کے بجائے ایک وسعت سمجھ لیتے، تو زندگی کتنی سہل ہوتی؟ ہم نے تو اپنی کم علمی کو ایک عیب بنا لیا ہے، حالانکہ یہی وہ واحد رستہ تھا جو سچی حیرت کی طرف کھلتا تھا۔ ہم نے پختگی کا وہ نقاب پہن رکھا ہے جو ہمیں کھل کر ہنسنے دیتا ہے اور نہ ہی نادان بن کر سوال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہم ایک ایسی دوڑ کے شریکِ سفر ہیں جہاں جیت کا معیار یہ ہے کہ کون اپنی محرومی کو کتنے سلیقے سے چھپا سکتا ہے۔
جب سفر تمام ہونے کو ہوتا ہے، تب احساس ہوتا ہے کہ جس سچ کو ہم تاحیات چھپاتے رہے، وہی ہماری سب سے بڑی طاقت تھی۔ ہماری نادانی ہی تو وہ کورا کاغذ تھا جس پر قدرت کوئی نیا نقش ابھار سکتی تھی، مگر ہم نے اسے نقلی تحریروں سے بھر کر ضائع کر دیا۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہم سب ایک ایسی نمائش کے منتظم ہیں، جہاں ہر شخص دوسرے کو یہ یقین دلانے میں مصروف ہے کہ وہ سب جانتا ہے، جبکہ حقیقت میں ہم سب اس بچے کی طرح ہیں جو اندھیرے کمرے میں راستہ ڈھونڈتے ہوئے صرف ایک دوسرے کا ہاتھ چھو کر تسلی پانا چاہتے ہیں؟

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ