Skip to main content

ننگے پاؤں کی بادشاہت اور بارش کے دن


انسانی زندگی کے اس طویل اور تھکا دینے والے سفر میں اگر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے بہت کچھ پانے کی تگ و دو میں وہ سب کھو دیا جو دراصل ہمارا اپنا تھا۔ ہم نے تہذیب کے نام پر جوتے پہن لیے، شائستگی کے نام پر بارش سے بچنے کے لیے چھتریاں تان لیں اور آسائش کے نام پر فطرت سے وہ رشتہ توڑ لیا جو ہمیں مٹی سے جوڑے ہوئے تھا۔ آج جب میں اپنے اردگرد ان بچوں کو دیکھتا ہوں جو بند جوتوں اور استری شدہ کپڑوں میں قید ہیں، تو سچی بات ہے، مجھے ان پر بڑا ترس آتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اس کائنات کے سب سے بڑے لمس سے محروم ہیں، جسے دھرتی کی محبت کہا جاتا ہے۔

جس شخص نے بچپن میں کبھی ننگے پاؤں زمین کی سختی اور نرمی کو محسوس نہیں کیا، اور جس نے کبھی آسمان سے گرتے ہوئے پانی کو اپنے بدن پر براہِ راست قبول نہیں کیا، اس نے دراصل زندگی کا پہلا سبق ہی نہیں پڑھا۔ وہ کیا جانے کہ جب آسمان سے بادلوں کے چھما چھم موتی برستے ہیں اور گرمی دانوں سے بھرے ہوئے بدن کو اپنی ساری ٹھنڈک پر رکھ دیتے ہیں، تو روح کے نہاں خانوں میں کیسی گدگدی ہوتی ہے! یہ وہ لذت ہے جسے دنیا کی کوئی مہنگی سے مہنگی دوا یا آسائش فراہم نہیں کر سکتی۔ یہ قدرت کا اپنا طریقہ ہے اپنے بچوں کو تھپکی دینے اور ان کے دکھ سمیٹنے کا۔

دھرتی بڑی غیور اور بڑی بھیدی ہے۔ وہ اپنا آپ اور اپنا سارا بھید بھاؤ ان لوگوں پر ظاہر نہیں کرتی جو اس کے اور اپنے درمیان مصنوعی رکاوٹیں کھڑی کر لیتے ہیں۔ جوتا محض چمڑے یا پلاسٹک کا ایک ٹکڑا نہیں ہے، بلکہ یہ انسان اور زمین کے درمیان ایک دیوار ہے۔ زمین کی اپنی ایک زبان ہے، ایک اپنا سبھاؤ ہے، جو وہ صرف ان تلووں کو منتقل کرتی ہے جو اس کے سینے پر براہِ راست تھرکتے ہیں۔ کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ کچی مٹی پر ننگے پاؤں چلتے ہوئے ہر قدم پر زمین اپنا مزاج بدلتی محسوس ہوتی ہے؟ کہیں وہ ریشم کی طرح نرم ہوتی ہے، کہیں تپتی دھوپ کی وجہ سے اس میں ایک کٹیلا پن ہوتا ہے، اور کہیں وہ اپنی ٹھنڈک سے تلووں کے رستے پورے وجود میں اتر جاتی ہے۔ دھرتی کا یہ کورا پنڈا جوتے کے تلے کو اپنا راز کیوں دکھائے؟ اسے تو وہ چھو بھی نہیں سکتی۔

ہمارے بچپن کے وہ دن بھی کیا دن تھے جب بارش کا ہونا کسی تہوار سے کم نہ تھا۔ بادلوں کی پہلی گرج کے ساتھ ہی ہم سب گھروں سے باہر نکل آتے تھے۔ مائیں کتنا ہی روکتی رہیں، کتنا ہی ڈراتی رہیں کہ بیمار ہو جاؤ گے، مگر وہ شور، وہ خوشبو اور وہ چھینٹے ہمیں کھینچ کر مٹی میں لے جاتے۔ وہ جو پانی کے قطرے ہوتے ہیں، جب وہ تپتے ہوئے جسم پر پڑتے ہیں تو لگتا ہے جیسے کائنات کی ساری تپش ایک لمحے میں دھل گئی۔ جسم پر نکلے ہوئے گرمی دانے، جو تپتی دوپہروں میں عذاب بن جاتے تھے، بارش کے ان قطروں کے لمس سے ایسے سکون پاتے تھے جیسے کسی نے جلے ہوئے پر مرہم رکھ دیا ہو۔ وہ ایک عجیب سی گدگدی ہوتی تھی جو مساموں سے شروع ہو کر دل تک جاتی تھی۔

آج کے بچے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر بارش کو شیشے کے پار سے دیکھتے ہیں۔ ان کے لیے بارش صرف ایک منظر ہے، احساس نہیں۔ وہ بارش کی آواز تو سن سکتے ہیں، مگر اس کی زبان نہیں سمجھ سکتے۔ وہ مٹی کی وہ سوندھی خوشبو نہیں پہچانتے جو بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی زمین کے سینے سے اٹھتی ہے اور روح کو معطر کر دیتی ہے۔ مجھے ان پر اس لیے ترس آتا ہے کہ وہ محفوظ تو ہیں مگر زندہ نہیں۔ انہوں نے تحفظ کی قیمت اپنا بچپن دے کر چکائی ہے۔ انہوں نے کبھی کچی مٹی میں پاؤں نہیں دھنسائے، کبھی کیچڑ میں گھروندے نہیں بنائے اور کبھی بارش کے پانی میں کاغذ کی کشتیاں نہیں چلائیں۔ وہ کیا جانیں کہ جب زمین گیلی ہوتی ہے تو اس کے مساموں سے زندگی کیسی پھوٹتی ہے۔

زمین کا ہر قدم پر بدلتا ہوا سبھاؤ ایک ایسی کتاب ہے جو صرف ننگے پیروں سے پڑھی جا سکتی ہے۔ جب آپ گھاس پر چلتے ہیں تو زمین کا لہجہ کچھ اور ہوتا ہے، جب آپ ریت پر قدم رکھتے ہیں تو وہ آپ کو اپنی گرمجوشی سے خوش آمدید کہتی ہے، اور جب آپ کسی ڈھلوان یا کٹیلی زمین پر چلتے ہیں تو وہ آپ کو چوکنا رہنے کا سبق دیتی ہے۔ یہ زمین کے وہ بھید ہیں جو جوتے پہننے والوں کے لیے ہمیشہ پوشیدہ رہتے ہیں۔ ہم نے اپنے پاؤں کو جوتوں میں قید کر کے دراصل اپنے احساسات کو قید کر لیا ہے۔ ہم اب زمین پر چلتے تو ہیں، مگر زمین کو محسوس نہیں کرتے۔ ہم اس کے اوپر سے گزر جاتے ہیں، اس کے اندر سے نہیں۔

پہلے زمانے کے لوگ زمین سے جڑے ہوئے تھے، اسی لیے ان کے مزاج میں وہ ٹھہراؤ اور وہ سچائی تھی جو مٹی کی خاصیت ہے۔ آج ہم فضاؤں میں اڑ رہے ہیں، فرش پر غالیچے بچھا لیے ہیں، پیروں میں دبیز جوتے پہن لیے ہیں، مگر ہمارا اندرونی خلفشار بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے دھرتی کی اس توانائی سے رشتہ توڑ لیا ہے جو ننگے تلووں کے ذریعے انسانی جسم میں منتقل ہوتی تھی۔ وہ جو تپتی دوپہر میں زمین کی گرمی پیروں کو لگتی تھی، وہ ہمیں برداشت سکھاتی تھی۔ وہ جو بارش کی ٹھنڈک تلووں کو چھوتی تھی، وہ ہمیں شکر گزاری کا احساس دلاتی تھی۔

بچپن ضائع کرنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آپ اسکول نہیں گئے یا آپ نے کھلونوں سے نہیں کھیلا۔ بچپن ضائع کرنے کا اصل مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس عمر میں فطرت کو اس کی اصلی حالت میں تسلیم نہیں کیا۔ اگر آپ نے بارش میں بھیگ کر اپنی قمیص گیلی نہیں کی، اگر آپ کے پاؤں میں مٹی کی وہ پرت نہیں جمی جو سوکھنے کے بعد پاپڑی بن کر اترتی ہے، تو یقین جانیے آپ نے ایک بہت بڑی دولت کھو دی ہے۔ وہ دولت جو یادوں کی صورت میں بڑھاپے کا سہارا بنتی ہے۔ وہ احساس جو بتاتا ہے کہ ہم اسی خاک کا حصہ ہیں اور ایک دن اسی خاک میں واپس جانا ہے۔

مجھے یاد ہے جب ہم ننگے پاؤں دوڑ لگاتے تھے، تو کانٹا چبھنا یا پتھر لگنا کوئی بڑی بات نہ ہوتی تھی۔ وہ تھوڑی سی تکلیف ہمیں زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کرواتی تھی۔ آج کے بچوں کو ایک خراش آ جائے تو طوفان کھڑا ہو جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے کبھی زمین کی سختی کو چکھا ہی نہیں ہوتا۔ وہ صرف نرمی کے عادی ہو چکے ہیں۔ مگر زندگی تو سختی اور نرمی کے امتزاج کا نام ہے۔ جو زمین کی تپش نہیں سہہ سکتا، وہ اس کی ٹھنڈک کا لطف بھی نہیں اٹھا سکتا۔

دھرتی ماں کہلاتی ہے، اور ماں کا لمس جوتے کے پیچھے سے محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ دھرتی کے بھید پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی انا کے جوتے اتار کر اس کے سامنے عجز سے کھڑا ہو جائے۔ وہ تمام لوگ جو تہذیب کے ملمع میں خود کو چھپائے بیٹھے ہیں، وہ کبھی اس گدگدی کو نہیں سمجھ پائیں گے جو بارش کے قطرے اور زمین کی نمی مل کر پیدا کرتے ہیں۔ وہ کبھی اس کورا پنڈے کی تاثیر سے واقف نہیں ہو پائیں گے جو کائنات کا سب سے قدیم اور سب سے سچا لباس ہے۔

آئیے، کبھی کبھی سہی، مگر اپنے بچوں کو ان جوتوں کی قید سے آزاد کریں۔ انہیں تھوڑی دیر کے لیے ننگے پاؤں مٹی پر چلنے دیں، انہیں بارش میں کھل کر نہانے دیں، انہیں مٹی کی خوشبو سے شناسائی کرنے دیں۔ انہیں بتائیں کہ دھرتی کا سینہ کتنا کشادہ ہے اور بادلوں کا برسنا کتنا بڑا انعام ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بڑے تو ہو جائیں، مگر ان کے اندر کا وہ بچہ ہمیشہ پیاسا ہی رہ جائے جس کی تسکین صرف اور صرف مٹی کے لمس اور بارش کے قطروں میں چھپی تھی۔ زندگی توازن کا نام ہے، اور یہ توازن تب ہی برقرار رہتا ہے جب ہمارے پاؤں زمین پر ہوں اور سر آسمان کی طرف۔ مگر یاد رکھیے، پاؤں کا زمین پر ہونا اور زمین کو محسوس کرنا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ دھرتی اپنا آپا جوتے کے تلے کو نہیں دکھاتی، وہ تو بس ننگے پاؤں کی بادشاہت کو تسلیم کرتی ہے۔

 

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ