عکس کا قیدی اور خالی آئینے
انسانی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ ہم نے خود کو دریافت کرنے کے بجائے خود کو ایجاد کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم ایک ایسی بستی کے باسی بن چکے ہیں جہاں ہر شخص اپنے ہاتھ میں ایک آئینہ لیے کھڑا ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ وہ اس آئینے میں اپنا عکس نہیں دیکھ رہا، بلکہ یہ دیکھ رہا ہے کہ دوسرے اس کے آئینے میں کیا دیکھ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جس نے ہمارے سماجی ڈھانچے اور انفرادی سکون کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔
بچپن میں ہم سب نے وہ کہانی سنی تھی کہ ایک بادشاہ کے پاس ایسا لباس تھا جو صرف اس کے وزیروں اور مشیروں کو نظر آتا تھا۔ آج ہم سب اسی بادشاہ کی طرح ڈیجیٹل اور سماجی ساکھ کا وہ نادیدہ لباس پہن کر گھوم رہے ہیں جو درحقیقت موجود ہی نہیں، مگر ہم اس کے معیار اور استر پر دن رات بحث کرتے ہیں۔ ہم نے اپنی زندگی کو ایک کینوس سمجھنے کے بجائے ایک شو کیس سمجھ لیا ہے۔ سماجی تضاد کا سب سے بڑا مظہر یہ ہے کہ ہماری محفلیں اب مکالمے کے لیے نہیں بلکہ منظر کشی کے لیے سجتی ہیں۔ دسترخوان پر رکھا ہوا کھانا اب پیٹ کی بھوک مٹانے سے پہلے کیمرے کی آنکھ کی پیاس بجھاتا ہے۔ ہم ذائقے سے محروم ہو رہے ہیں کیونکہ ہماری پوری توجہ اس کے رنگ و روپ کو محفوظ کرنے پر ہے۔ یہ رویہ بتاتا ہے کہ ہم لمحے کو جینے کے بجائے اسے قید کرنے کے اسیر ہو چکے ہیں۔ مگر یاد رکھیے، جس پرندے کو آپ نے پنجرے میں قید کر لیا، اس کی پرواز اور نغمگی اسی لمحے دم توڑ دیتی ہے۔
جدید انسان تنہائی سے نہیں، بلکہ خالی پن سے ڈرتا ہے۔ تنہائی ایک تخلیقی حالت ہے، جبکہ خالی پن ایک اذیت ناک خلا۔ ہم نے اس خلا کو بھرنے کے لیے اپنے اردگرد مصنوعی آوازوں کا ایک حصار کھینچ لیا ہے۔ آپ کسی بھی پبلک مقام پر چلے جائیں، آپ کو لوگ ملیں گے جو ساتھ بیٹھ کر بھی ایک دوسرے سے میلوں دور ہیں۔ ان کے ہاتھ اپنے اپنے فونز پر مصروف ہیں، گویا وہ اپنے برابر بیٹھے ہوئے جیتی جاگتی حقیقت سے زیادہ اس نادیدہ دنیا پر اعتبار کرتے ہیں جو سکرین کے پیچھے دھڑک رہی ہے۔ یہ تضاد کتنا گہرا ہے کہ ہم گلوبل ولیج کا حصہ تو بن گئے، مگر اپنے پڑوس سے کٹ گئے۔ ہم دنیا کے دوسرے کونے پر بیٹھے اجنبی کے دکھ پر جذباتی پوسٹ تو لکھ سکتے ہیں، لیکن اپنے گھر میں موجود اداس بوڑھے باپ کی آنکھوں میں جھانک کر یہ نہیں پوچھ سکتے کہ آپ کیسے ہیں؟۔ ہماری ہمدردیاں اب کلک کی محتاج ہیں، احساس کی نہیں۔
ہمارے معاشرے نے کامیابی کا ایک ایسا فارمولا مرتب کر لیا ہے جس میں ہونے سے زیادہ نظر آنے کی اہمیت ہے۔ ایک نوجوان جو ابھی زندگی کے میدان میں قدم رکھ رہا ہے، وہ یہ نہیں سوچتا کہ اسے کیا سیکھنا ہے، بلکہ یہ سوچتا ہے کہ اسے کیا 'دکھانا' ہے۔ ہم نے ڈگریوں کو علم کا، برانڈز کو شخصیت کا اور بینک بیلنس کو عزت کا متبادل سمجھ لیا ہے۔ اس تضاد نے ہمیں ایک ایسی دوڑ میں شامل کر دیا ہے جس کی کوئی منزل نہیں۔ ہم ان چیزوں کو خریدنے کے لیے اپنی وہ زندگی بیچ رہے ہیں جن کی ہمیں ضرورت نہیں۔ ہم ان لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے اپنا سکون غارت کر رہے ہیں جنہیں ہماری پروا تک نہیں۔ یہ ایک ایسا 'سماجی فریب' ہے جس میں ہم سب جانتے بوجھتے شریک ہیں۔
انسانی رویوں میں سب سے زیادہ تبدیلی ہمارے تعلقات کی نوعیت میں آئی ہے۔ اب تعلقات استعمال کے لیے ہوتے ہیں اور چیزیں محبت کے لیے۔ پہلے زمانے میں صوفے پرانے ہو جاتے تھے مگر رشتے نئے رہتے تھے، اب صوفے ہر سال بدل جاتے ہیں مگر رشتے بوسیدہ ہو چکے ہیں۔ ہم نے محبت کو بھی ایک پراجیکٹ بنا لیا ہے۔ ہم شریکِ حیات کا انتخاب کرتے وقت اس کی روح نہیں، بلکہ اس کا سوشل سٹیٹس اور پیکیج دیکھتے ہیں۔ جب بنیاد ہی ریت پر ہو، تو عمارت کا بوجھ کون اٹھائے گا؟ یہی وجہ ہے کہ ذرا سی تپش پڑنے پر ہمارے تعلقات پگھل کر بہہ جاتے ہیں۔ ہم نے معافی کو کمزوری اور انا کو وقار سمجھ لیا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو ہرانے کی کوشش میں دراصل خود ہار رہے ہوتے ہیں۔
کبھی تنہائی میں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر سوچئے کہ جو شخص سامنے نظر آ رہا ہے، کیا آپ اسے جانتے ہیں؟ یا وہ بھی ایک ایسا ہی چہرہ ہے جو آپ نے دنیا کی ضرورت کے مطابق تراشا ہے؟ ہم سب نے کئی ماسک پہن رکھے ہیں۔ دفتر کے لیے الگ، دوستوں کے لیے الگ، اور سوشل میڈیا کے لیے تو سب سے خوبصورت ماسک۔ المیہ یہ ہے کہ ان ماسک کو پہنتے پہنتے ہمارا اصل چہرہ کہیں کھو گیا ہے۔ ہم اب وہ نہیں رہے جو ہم تھے، بلکہ وہ بن گئے ہیں جو دنیا ہمیں دیکھنا چاہتی تھی۔ اس مصنوعی شخصیت کے بوجھ نے ہماری کمر جھکا دی ہے۔ ذہنی تناؤ، ڈپریشن اور بے چینی دراصل اسی تضاد کی چیخیں ہیں جو ہمارے اندر سے بلند ہو رہی ہیں، مگر ہم انہیں دواؤں کے شور میں دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔
کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں؟ اگر ترقی کا مطلب بلند و بالا عمارتیں اور تیز رفتار گاڑیاں ہیں، تو شاید ہم کامیاب ہیں۔ مگر اگر ترقی کا مطلب ذہنی سکون، باہمی احترام اور انسانیت کی قدر ہے، تو ہمیں اپنی سمت پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں معلومات کی بہتات ہے مگر حکمت ناپید ہے۔ ہمارے پاس بولنے کے لیے الفاظ بہت ہیں، مگر کہنے کے لیے کچھ نہیں۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کے نقاد تو ہیں، مگر اپنی زندگی کے طالب علم نہیں۔ اس دلدل سے نکلنے کا راستہ صرف ایک ہی ہے: واپسی۔ اپنی اصل کی طرف واپسی۔ ہمیں دوبارہ سے یہ سیکھنا ہوگا کہ خاموشی میں کیسی موسیقی ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک کپ چائے کی لذت اس کی تصویر بنانے میں نہیں، بلکہ اس کی خوشبو کو محسوس کرنے میں ہے۔ ہمیں اپنے رشتوں میں
دوبارہ سے وقت کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی، پیسے کی نہیں۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم نامکمل ہیں، اور اس نامکملیت میں کوئی برائی نہیں۔ کامل ہونے کا خبط ہمیں صرف تھکاوٹ دے سکتا ہے، خوشی نہیں۔ زندگی کوئی مقابلہ نہیں ہے جسے جیتنا ضروری ہو، یہ ایک سفر ہے جسے محسوس کرنا ضروری ہے۔ سماج تضادات کا مجموعہ ہوتا ہے، مگر جب تضاد ہی سماج بن جائے تو بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ ہمیں اس نمائشی زندگی کے خول سے باہر آنا ہوگا۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ جب ہم اس دنیا سے جائیں گے، تو ہمارے فالوورز کی تعداد یا ہماری گاڑی کا ماڈل نہیں، بلکہ وہ لمحے ساتھ جائیں گے جو ہم نے سچائی کے ساتھ جیے تھے۔ آج کی رات جب آپ بستر پر لیٹیں، تو اس فون کو ایک طرف رکھ دیں جو آپ کو پوری دنیا سے جوڑے ہوئے ہے، اور صرف پانچ منٹ کے لیے خود سے بات کریں۔ شاید وہ شخص جو آپ کے اندر برسوں سے خاموش بیٹھا ہے، آپ کو وہ راستہ دکھا دے جو کسی نقشے پر موجود نہیں۔
Comments
Post a Comment