Skip to main content

بلندیوں کے پہرے دار اور ہمارے عہد کا اضطراب


اسلام آباد کی صبح جب اپنے گداز ہاتھوں سے مارگلہ کے ماتھے پر جمی دھند کو ہٹاتی ہے، تو فضا میں ایک ایسی خوشبو بیدار ہوتی ہے جو نہ تو مٹی کی ہوتی ہے اور نہ ہی پھولوں کی۔ یہ خوشبو خاموشی کی ہوتی ہے۔۔۔ وہ خاموشی جو صرف ان کو سنائی دیتی ہے جو شہر کے ہنگاموں کی گرد جھاڑ کر ان پگڈنڈیوں کا رخ کرتے ہیں۔ مارگلہ کی ٹریل فائیو پر پہلا قدم رکھتے ہی انسان ایک ایسی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جہاں وقت کا پہیہ سست پڑ جاتا ہے اور مادی وجود کی گھڑیاں بے معنی ہو جاتی ہیں۔

یہ ٹریل محض ایک راستہ نہیں، بلکہ ایک خود شناس سفر ہے۔ جوں جوں بلندی کی طرف قدم بڑھتے ہیں، پھیپھڑوں میں اترنے والی تازہ ہوا روح کے ان گوشوں کو چھوتی ہے جنہیں ہم نے سیمنٹ اور سریے کے جنگلوں میں کہیں گم کر دیا تھا۔ پاؤں تلے چرچرانے والے خشک پتے اور راستے میں پڑے وہ قدیم پتھر، جن پر وقت نے اپنی جھریاں لکھ دی ہیں، آپ سے کلام کرنے لگتے ہیں۔ یہ پتھر ساکت نہیں ہیں؛ یہ صدیوں کے شاہد ہیں، جنہوں نے نہ جانے کتنے مسافروں کے پیروں کی چاپ سنی اور انہیں خاموشی سے گزرتے دیکھا۔ ان پتھروں سے گزرتے ہوئے ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوتی ہے ۔۔ایک ایسی گہرائی جہاں انسان کو اپنی بے وقعتی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ ہم جو نیچے وادیوں میں اپنی انا کے بڑے بڑے برج تعمیر کیے بیٹھے ہیں، ان پہاڑوں کے سامنے آکر کتنے بونے محسوس ہوتے ہیں۔

اور پھر وہ چوٹیاں آتی ہیں جہاں مارگلہ کے اصلی پہرے دار کھڑے ہیں۔ یہ وہ بلند قامت درخت ہیں جو کسی قدیم فوج کے جفاکش سپاہیوں کی طرح ہر موسم، ہر آندھی اور ہر تھپیڑے کا سینہ تان کر مقابلہ کرتے ہیں۔ ان کی استقامت دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ ان کے تنے کھردرے ہیں، شاخیں بوجھل ہیں، مگر ان کا رخ ہمیشہ آسمان کی طرف رہتا ہے۔ یہ درخت ہمیں سکھاتے ہیں کہ جڑیں مٹی میں پیوست ہونی چاہئیں، مگر نظر بلند رہنی چاہیے۔ یہ پہرے دار صرف چوٹی کی حفاظت نہیں کر رہے، بلکہ یہ اس سکون کی پاسبانی کر رہے ہیں جو بلندیوں کا مقدر ہے۔ ان درختوں کے سائے میں بیٹھ کر جب انسان نیچے شہر کی طرف دیکھتا ہے، تو اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ تمام دوڑ دھوپ، وہ تمام رقابتیں اور وہ تمام مادی خواہشات جن کے پیچھے ہم دیوانہ وار بھاگ رہے ہیں، اس بلندی سے کتنی حقیر نظر آتی ہیں۔

آج جب میں اس ٹریل  پر چل رہا ہوں، تو فضا میں ماہِ رمضان کا ایک مخصوص تقدس بھی رچا ہوا ہے۔ یہ صبر اور تحمل کا مہینہ ہے، اور مارگلہ کی یہ چڑھائی بھی تو ایک طرح کا روزہ ہی ہے۔ یہاں پیاس ہے، تھکن ہے، اور جسم کا ٹوٹنا ہے، مگر اس سب کے بدلے میں جو قلبی سکون حاصل ہوتا ہے، وہی اس سفر کا اصل افطار ہے۔ رمضان ہمیں رکنے، سوچنے اور اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیتا ہے، اور یہ پہاڑ بھی اسی دعوتِ فکر کی ایک عملی شکل ہیں۔ پہاڑوں کی اس خاموشی میں تسبیح کی ایک الگ ہی گونج ہوتی ہے۔ یہاں ہر درخت کا پتہ تسبیح خواں ہے اور ہر پرندے کی چہچہاہٹ ایک حمد ہے۔

لیکن اس سکون کے بیچوں بیچ، جب انسانی فکر کا پرندہ سرحدیں پار کر کے خلیج کی طرف اڑتا ہے، جہاں جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں، تو روح تڑپ اٹھتی ہے۔ کتنا بڑا تضاد ہے! ایک طرف یہ قدرتی حسن، یہ معطر ہوا اور یہ سکونِ قلب ہے، اور دوسری طرف انسانی بستیوں پر گرتے ہوئے وہ مہیب بم ہیں جو بچوں کی ہنسی اور بوڑھوں کی دعاؤں کو مٹی میں ملا رہے ہیں۔ خلیج میں جاری یہ جنگ صرف زمین کا ٹکڑا پانے کی جنگ نہیں، بلکہ انسانیت کے زوال کا وہ نوحہ ہے جو ان چوٹیوں کے پہرے داروں کو بھی اداس کر رہا ہوگا۔ جب ہم یہاں افطار کے لیے ٹھنڈے پانی کی تلاش میں ہوتے ہیں، وہاں کوئی ماں اپنے بچے کے لیے پیاس سے تڑپ رہی ہوتی ہے۔ جب ہم یہاں ان درختوں کی استقامت کی داد دیتے ہیں، وہاں انسانی وجود کی عمارتیں بارود سے زمین بوس ہو رہی ہوتی ہیں۔

انسان ایک عجیب مخلوق ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں خالقِ کائنات کے اس حسین شاہکار کا مشاہدہ بھی کرتا ہے اور اپنے ہی بھائی کا لہو بہانے کے لیے نت نئے ہتھیار بھی ایجاد کرتا ہے۔ مارگلہ کی ان بلندیوں پر کھڑے ہو کر جب ہم آسمان کے قریب ہوتے ہیں، تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہماری سوچیں بھی اتنی ہی بلند ہیں؟ یا ہم ابھی تک ان وادیوں کی غلاظت اور نفرتوں میں مقید ہیں؟ یہ درخت جو چوٹیوں پر پہرہ دیتے ہیں، یہ کسی کا رنگ، نسل یا مذہب نہیں پوچھتے؛ یہ ہر تھکے ہوئے مسافر کو یکساں سایہ دیتے ہیں۔ کیا ہم انسانوں کے لیے ان میں کوئی سبق نہیں؟

ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے باہر کی فتوحات پر تو توجہ دی، مگر اپنے اندر کی کائنات کو اجاڑ دیا۔ ہم نے پہاڑوں کو کاٹ کر سڑکیں تو بنا لیں، مگر دلوں کے درمیان پھیلی ہوئی خلیج کو کم کرنے کے لیے ایک قدم بھی نہ اٹھایا۔ رمضان کا یہ مقدس مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل جہاد اپنی انا کے خلاف ہے، اس ہوس کے خلاف ہے جو ہمیں دوسروں کا حق مارنے پر اکساتی ہے۔ خلیج کی جنگ ہو یا دنیا کے کسی بھی کونے میں جاری انسانیت کی تذلیل، یہ سب ہماری اسی اندرونی شکست کا نتیجہ ہیں۔

جب میں اس ٹریل سے واپسی کا رخ کرتا ہوں  تو ایسا لگتا ہے جیسے  مارگلہ کے یہ پہرے دار درخت مجھے الوداع کہہ رہے ہوں اور یہ پوچھ رہے ہوں کہ "اے مسافر! تو اس سکون کا کچھ حصہ اپنے ساتھ نیچے لے کر جا رہا ہے، یا تو پھر اسی ہجوم میں گم ہو جائے گا جہاں لوگ ایک دوسرے کو کچل کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں؟"

مارگلہ کا راستہ ختم  ہوجاتاہے، مگر سوچوں کا سفر ابھی جاری ہے۔ پہاڑ، درخت اور پتھر خاموش ہیں، مگر ان کی یہ خاموشی ایک ایسا سوال ہے جو ہر ذی شعور انسان کے ضمیر پر دستک دے رہا ہے۔ کیا ہم اس لائق ہیں کہ ان عظیم پہرے داروں کے سامنے سر اٹھا کر کھڑے ہو سکیں؟ یا ہماری تاریخ صرف جنگوں، نفرتوں اور ہوسِ زر کی داستان بن کر رہ جائے گی؟

آج کی رات، جب چاند ان چوٹیوں کے پیچھے سے نمودار ہوگا، تو وہ نہ صرف مارگلہ کو روشن کرے گا، بلکہ شاید کسی دور دراز جنگ زدہ بستی میں کسی یتیم کی آنکھوں میں بھی چمکے گا۔ دعا ہے کہ یہ روشنی صرف آسمان تک نہ رہے، بلکہ انسان کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تفکر کو بھی منور کر دے۔


Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ