Skip to main content

آدھا سچ اور پوری اذیت

 آدھا سچ اور پوری اذیت

ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں سچ بولنا اتنا مشکل نہیں رہا، جتنا سچ سننا مہنگا ہو گیا ہے۔ ہم نے اپنی سہولت کے لیے سچ کے بھی حصے کر لیے ہیں۔ ایک وہ جو ہمیں سکون دیتا ہے، اور ایک وہ جو ہمیں آئینہ دکھاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے 'آئینہ دکھانے والے سچ' کو بدتمیزی کا نام دے دیا ہے اور 'خوش کن جھوٹ' کو مصلحت کا لبادہ پہنا دیا ہے۔

کبھی سوچئیے گا کہ جب ہم کسی کی تعریف کرتے ہیں تو کیا وہ واقعی اس کی خوبی ہوتی ہے یا ہماری اپنی کسی ضرورت کا پیش خیمہ؟ ہم لفظوں کے سوداگر بن چکے ہیں، جو صرف وہ مال بیچتے ہیں جس کی بازار میں مانگ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اب تحریروں میں جان اور لہجوں میں تاثیر ختم ہو گئی ہے۔ ہم مٹی کے وہ برتن بن گئے ہیں جو باہر سے تو چمکدار ہیں مگر اندر سے خالی، اور خالی برتنوں کا شور ہی ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کیا ہم کبھی اس خالی پن کو بھرنے کی جرات کر پائیں گے، یا صرف گونج بن کر رہ جائیں گے؟

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ