Skip to main content

آدھا سچ اور پوری اذیت

 آدھا سچ اور پوری اذیت

ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں سچ بولنا اتنا مشکل نہیں رہا، جتنا سچ سننا مہنگا ہو گیا ہے۔ ہم نے اپنی سہولت کے لیے سچ کے بھی حصے کر لیے ہیں۔ ایک وہ جو ہمیں سکون دیتا ہے، اور ایک وہ جو ہمیں آئینہ دکھاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے 'آئینہ دکھانے والے سچ' کو بدتمیزی کا نام دے دیا ہے اور 'خوش کن جھوٹ' کو مصلحت کا لبادہ پہنا دیا ہے۔

کبھی سوچئیے گا کہ جب ہم کسی کی تعریف کرتے ہیں تو کیا وہ واقعی اس کی خوبی ہوتی ہے یا ہماری اپنی کسی ضرورت کا پیش خیمہ؟ ہم لفظوں کے سوداگر بن چکے ہیں، جو صرف وہ مال بیچتے ہیں جس کی بازار میں مانگ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اب تحریروں میں جان اور لہجوں میں تاثیر ختم ہو گئی ہے۔ ہم مٹی کے وہ برتن بن گئے ہیں جو باہر سے تو چمکدار ہیں مگر اندر سے خالی، اور خالی برتنوں کا شور ہی ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کیا ہم کبھی اس خالی پن کو بھرنے کی جرات کر پائیں گے، یا صرف گونج بن کر رہ جائیں گے؟

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...