Skip to main content

کرائے کا مسافر


ہم سب نے اپنے اندر ایک ایسا کمرہ بنا رکھا ہے جس کا کرایہ ہم اپنی بہترین صلاحیتوں اور خوابوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں، مگر وہاں قیام کبھی نہیں کرتے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم اس کمرے کو سنوارنے میں عمر گزار دیتے ہیں؛ دیواروں پر اپنی پسند کے رنگ سجاتے ہیں، کھڑکیوں پر اُمید کے پردے لٹکاتے ہیں اور فرش پر گزرے ہوئے کل کی نرم قالین بچھاتے ہیں، لیکن خود ہمیشہ دہلیز پر کھڑے رہ کر اندر کی ترتیب کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔
ممکن ہے کبھی آپ نے محسوس کیا کہ ہم اپنی زندگی کے اصل لمحات میں موجود کیوں نہیں ہوتے؟ جب ہم ہنس رہے ہوتے ہیں تو ہمارا ایک حصہ اس ہنسی کے ختم ہونے کے خوف میں مبتلا ہوتا ہے، اور جب ہم روتے ہیں تو ہم یہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی ہمیں دیکھ تو نہیں رہا۔
مجھے کیوں ایسے لگتا ہے اصل زندگی وہ نہیں جو ہم جی رہے ہیں، بلکہ وہ ہے جو ہم جینا بھول گئے ہیں۔ وہ جو کسی پرانی کتاب کے دو صفحات کے درمیان دبی ہوئی خشک پتی کی طرح خاموش ہے، مگر جس کی خوشبو آج بھی ہمیں بے چین کر دیتی ہے۔ ہم اس انتظار میں ہیں کہ کوئی آئے گا اور ہمیں ہمارے ہی گھر کا راستہ دکھائے گا، جبکہ چابی ہمیشہ سے ہماری اپنی جیب میں موجود ہے۔
کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہم سب ایک ایسی ٹرین کے مسافر ہیں جس کی منزل کا تعین ہم نے خود نہیں کیا، مگر ہم اس کی رفتار پر مسلسل بحث کر رہے ہیں؟

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر