Skip to main content

تقسیم اور تکمیل کے درمیان ایک مکالمہ




شام کی نارنجی دھوپ جب پرانے برگد کے چوڑے پتوں سے چھن کر زمین پر نقش و نگار بنا رہی تھی، تو بستی کے کنارے بنے اس کچے مسافر خانے کے تھڑے پر دو شخص بیٹھے تھے۔ ایک کے پاس چمڑے کا بھرا ہوا سفری تھیلا تھا اور سامنے پیتل کا چمکتا ہوا برتن، جس کا ڈھکن مضبوطی سے بند تھا۔ دوسرا شخص بالکل خالی ہاتھ تھا، اس کے سامنے مٹی کا ایک بڑا پیالہ الٹا رکھا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے کوئی تھک کر اپنی انا کو زمین پر رکھ دے۔

بھرے ہوئے تھیلے والے شخص نے، جسے ہم صاحبِ اسباب کہہ سکتے ہیں، دوسرے کی حالت کو دیکھ کر ایک گہری ہمدردی والی آہ بھری اور اپنی جیب کی طرف ہاتھ لے جاتے ہوئے بولا: "لگتا ہے قسمت نے اس بار وفا نہیں کی۔ تمہارا برتن تو بالکل خالی ہے، اگر کہو تو میں اپنے زادِ راہ میں سے کچھ حصہ تمہاری نذر کر دوں؟"

خالی ہاتھ والے مسافر نے ایک دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں وہ اضطراب نہیں تھا جو عام طور پر محرومی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ اس نے بڑی نرمی سے جواب دیا: " صاحب جی ! شکریہ، مگر برتن کا خالی ہونا ہمیشہ اس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ اس میں کچھ آیا نہیں، کبھی کبھی یہ اس بات کی گواہی بھی ہوتا ہے کہ اس میں سے سب کچھ بانٹ دیا گیا ہے۔"

صاحبِ اسباب کو یہ بات کچھ عجیب سی لگی۔ اس نے اپنے پیتل کے برتن کو سہلاتے ہوئے کہا، "بھائی، دنیا تو ظاہر کو دیکھتی ہے۔ بھرا ہوا برتن خوشحالی اور کامیابی کی علامت ہے، جبکہ خالی برتن دستِ سوال کی خاموش پکار۔ لوگ تمہیں دیکھ کر یہی سمجھیں گے کہ تم مانگنے آئے ہو۔"

خالی ہاتھ مسافر نے زمین پر الٹے رکھے مٹی کے پیالے کو سیدھا کیا اور بولا: "یہی تو المیہ ہے کہ ہم نے انسانوں کو برتنوں کے حجم اور ان کے اندر موجود چیزوں سے ناپنا شروع کر دیا ہے۔ آپ کو میرا یہ پیالہ خالی نظر آ رہا ہے، مگر مجھے اس کی دیواروں سے ان درجنوں پیاسوں کی سانسوں کی مہک آ رہی ہے جن کی پیاس بجھاتے بجھاتے یہ خود خالی ہوا۔ کیا وہ شخص جو اپنا سب کچھ بانٹ کر، اپنی جھولی جھاڑ کر خالی ہاتھ کھڑا ہو، وہ اس شخص سے زیادہ امیر نہیں جس نے خوف کے مارے اپنا برتن ڈھانپ کر رکھا ہے کہ کہیں کم نہ ہو جائے؟"

صاحب الجھ کر رہ گیا ۔ وہ اس نفسیاتی گرہ کو کیسے کھولتا  جسے ہمارا معاشرہ سمجھنے سے قاصر ہے۔ ہم ایک ایسی دوڑ میں شامل ہیں جہاں بہت سامال و اسباب رکھنا سٹیٹس سمبل بن چکا ہے اور خالی ہونا ایک گالی۔ ہم نے کامیابی کا معیار اس تجوری کو بنا لیا ہے جس کا تالا کبھی نہ کھلے۔ لیکن قدرت کا نظام اس کے بالکل برعکس ہے۔ دریا اگر اپنے پانی کو روک لے تو وہ جوہڑ بن جاتا ہے، اس کا حسن اور اس کی زندگی اس کے بہہ جانے اور بانٹ دیے جانے میں ہے۔

صاحبِ اسباب نے کچھ سوچتے ہوئے کہا، "مگر میاں، اگر سب کچھ بانٹ دیا جائے تو کل کیا ہوگا؟ یہ جو بیٹھے بٹھائے کا خوف ہے، یہ جو مستقبل کی بے یقینی ہے، یہ انسان کو اپنا ہاتھ روکنے پر مجبور کرتی ہے۔ اپنا برتن بھر کر رکھنا عقل مندی ہے، ورنہ اس بے درد دنیا میں کون کسی کو پوچھتا ہے؟"

خالی ہاتھ مسافر نے ایک پرندہ دیکھا جو افق کی طرف اڑ رہا تھا، اور جواب دیا: "خوف تو اسے ہوتا ہے جس کے پاس کھونے کو کچھ ہو۔ جس نے اپنا برتن خود خالی کر دیا، اسے اب کس بات کا ڈر؟ اسے نہ سائے کا خوف ہے، نہ دھوپ کی تپش کا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جس دن میں نے اپنا آخری لقمہ اور آخری بوند تقسیم کی تھی، اس دن مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ بوجھ میرے کندھوں سے نہیں، میری روح سے اترا ہے۔ ہم جسے خالی پن کہتے ہیں، وہ دراصل وہ جگہ ہے جہاں کائنات کی نئی نعمتیں اترنے کے لیے راستہ بناتی ہیں۔ اگر برتن پہلے سے بھرا ہو، تو اس میں نئی چیز کی جگہ کہاں ہوگی؟"

ہمارے سماج میں جب ہم کسی کو خالی ہاتھ دیکھتے ہیں، تو ہمارا پہلا گمان یہی ہوتا ہے کہ یہ مانگنے والا ہے۔ ہماری سوچ کا کینوس اتنا تنگ ہو چکا ہے کہ ہم ایثار کا تصور ہی نہیں کر پاتے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ تاریخ میں بڑے نام ان کے نہیں رہے جنہوں نے بڑے بڑے محل اور گودام بھرے، بلکہ ان کے رہے جنہوں نے انسانیت کی پیاس بجھانے کے لیے اپنی مشکیں خالی کر دیں۔

اگر آپ ان دو مسافروں کے اس  تمثیلی مکالمے پر غور کریں ، تو محسوس ہوگا  کہ ہم سب اپنی اپنی زندگیوں میں کسی نہ کسی برتن کو بھرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ کوئی شہرت سے بھرنا چاہتا ہے، کوئی دولت سے، اور کوئی اقتدار سے۔ مگر کیا کبھی کسی نے اس خالی پن کے حسن پر غور کیا ہے جو سب کچھ لٹا دینے کے بعد نصیب ہوتا ہے؟

جس شخص نے اپنا سب کچھ بانٹ دیا ہو، اس کا وقار اس کے چہرے کی اس خاموشی میں ہوتا ہے جو چیخ کر اپنا حق نہیں مانگتی۔ وہ تو ایک خاموش پیغام ہوتا ہے کہ "دیکھو، میں نے خود کو اس قید سے آزاد کر لیا ہے جس میں تم سب گرفتار ہو۔" وہ برتن جسے ہم خالی سمجھ کر ترس کھاتے ہیں، دراصل وہ ایک ایسی قربان گاہ ہے جہاں انا کی بھٹ پوجا ختم ہو چکی ہے۔

شام کے سائے گہرے ہو چلے تھے۔ صاحبِ اسباب نے اپنا چمڑے کا تھیلا کھولا، اس میں سے ایک روٹی نکالی اور اسے دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے خالی ہاتھ مسافر کی طرف بڑھایا۔ اس بار اس کے لہجے میں ہمدردی نہیں، بلکہ ایک احترام تھا۔

اس نے کہا، "میں اب بھی ڈرتا ہوں، مگر تمہاری باتوں نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ شاید میرا یہ بھرا ہوا برتن ہی میری سب سے بڑی قید ہے۔ کیا تم مجھے سکھا سکتے ہو کہ خالی ہو کر بھی پر اعتماد کیسے رہا جاتا ہے؟"

خالی ہاتھ مسافر نے روٹی کا ٹکڑا لیتے ہوئے کہا، "یہ سیکھنا نہیں پڑتا، بس ایک قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ جس دن تم اپنے کرائے کے محل کی فکر چھوڑ کر سرائے کے مسافروں کا درد سمجھو گے، اس دن تمہیں پتہ چلے گا کہ خدا کی رضا کسی کی رائے کی محتاج نہیں ہوتی۔"

یاد رکھیے، کائنات کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ جو ہاتھ بانٹتا ہے، وہ کبھی خالی نہیں رہتا۔ بظاہر نظر آنے والا خالی پن دراصل ایک ایسی وسعت ہے جس میں پوری کائنات سما سکتی ہے۔ کسی کا برتن خالی دیکھ کر اسے سائل نہ سمجھیں، ہو سکتا ہے وہ اس مقام پر کھڑا ہو جہاں لینے اور دینے کی تمیز ہی ختم ہو جاتی ہے، جہاں انسان صرف ایک واسطہ بن جاتا ہے۔خالق کی نعمتوں اور اس کی مخلوق کے درمیان۔

ماہ رمضان کی ان بابرکت ساعتوں میں اگر ہم کسی کی مفلسی  کو اس کی عظمت سمجھنے کی ہمت پیدا کر لیں، تو شاید یہ دنیا ایک سرائے سے بڑھ کر ایک ایسا گھر بن جائے جہاں کوئی بھوکا نہ رہے اور کوئی خوف زدہ نہ ہو۔ اگر ایثار ہماری عادت بن جائے تو دنیا مزید خوب صورت ہو جائے

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ