Skip to main content

Posts

Showing posts with the label نمکین جزیرے،

نمکین جزیرے

  نمکین جزیرے کبھی کبھی میں خود سے پوچھتا ہوں کہ وہ آنسو کہاں گئے جو میری پلکوں کی باڑھ عبور نہ کر سکے؟ وہ فنا نہیں ہوئے، انہوں نے ہجرت کر لی۔ میری آنکھوں کی بنجر زمین سے ہجرت کر کے وہ میری روح کے نہاں خانوں میں اتر گئے اور وہاں خاموشی کا ایک نمکین جزیرہ تعمیر کر لیا۔ ماں باپ کا سایہ اٹھا، بھائی بچھڑا اور پھر... پھر میں نے اپنے جوان بیٹے کی میت کو کندھا دیا۔ یہ وہ مقامات تھے جہاں کائنات مجھ سے میری آنکھوں کا خراج مانگ رہی تھی، مگر میرے اندر بیٹھے کسی سوکالڈ مضبوط انسان نے بین کرنے والے دروازے اندر سے بند کر لیے۔ میں دھاڑیں مار کر رونا چاہتا تھا، کائنات کا گریبان پکڑ کر چیخنا چاہتا تھا، مگر میں ساکت کھڑا رہا۔ لوگوں نے سمجھا میں صابر ہوں، پر میں جانتا تھا کہ میں اندر سے پتھر ہو رہا ہوں۔ ہمیں سکھایا گیا کہ رونا کمزوری ہے، مگر آج احساس ہوتا ہے کہ رونا تو مٹی کا وہ قرض ہے جو ادا نہ ہو تو بوجھ بن کر سینے پر تنی رہتی ہے۔ جو آنسو باہر گرتے ہیں وہ گالوں کو بھگو کر رخصت ہو جاتے ہیں، لیکن جو آنسو اندر گرتے ہیں وہ روح کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔ میرا نہ رونا میری طاقت نہیں تھی، بلکہ اس تقدیر ...