نمکین جزیرے
کبھی کبھی میں خود سے پوچھتا ہوں کہ وہ آنسو کہاں گئے جو میری پلکوں کی باڑھ عبور نہ کر سکے؟ وہ فنا نہیں ہوئے، انہوں نے ہجرت کر لی۔ میری آنکھوں کی بنجر زمین سے ہجرت کر کے وہ میری روح کے نہاں خانوں میں اتر گئے اور وہاں خاموشی کا ایک نمکین جزیرہ تعمیر کر لیا۔
ماں باپ کا سایہ اٹھا، بھائی بچھڑا اور پھر... پھر میں نے اپنے جوان بیٹے کی میت کو کندھا دیا۔ یہ وہ مقامات تھے جہاں کائنات مجھ سے میری آنکھوں کا خراج مانگ رہی تھی، مگر میرے اندر بیٹھے کسی سوکالڈ مضبوط انسان نے بین کرنے والے دروازے اندر سے بند کر لیے۔ میں دھاڑیں مار کر رونا چاہتا تھا، کائنات کا گریبان پکڑ کر چیخنا چاہتا تھا، مگر میں ساکت کھڑا رہا۔ لوگوں نے سمجھا میں صابر ہوں، پر میں جانتا تھا کہ میں اندر سے پتھر ہو رہا ہوں۔
ہمیں سکھایا گیا کہ رونا کمزوری ہے، مگر آج احساس ہوتا ہے کہ رونا تو مٹی کا وہ قرض ہے جو ادا نہ ہو تو بوجھ بن کر سینے پر تنی رہتی ہے۔ جو آنسو باہر گرتے ہیں وہ گالوں کو بھگو کر رخصت ہو جاتے ہیں، لیکن جو آنسو اندر گرتے ہیں وہ روح کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔ میرا نہ رونا میری طاقت نہیں تھی، بلکہ اس تقدیر سے ایک گونگی بغاوت تھی جس نے مجھ سے میرے پیارے چھیننے میں کبھی رعایت نہیں کی۔ مگر یہ بغاوت مجھے مہنگی پڑی۔
میں نے اپنوں کو لحد میں اتارا اور خود کو بھی وہیں کہیں دفن کر دیا۔ وہ رونا جو 'دھاڑیں مارنے' کی حسرت میں دبا رہا، اب ایک ایسا بوجھ ہے جو میری روح کو سیدھا نہیں ہونے دیتا۔ کیا نہ رونے سے میں مضبوط ہوا؟ شاید دنیا کی نظر میں ہاں، مگر اپنی نظر میں مَیں وہ مجرم ہوں جس نے خود اپنے زخموں کو سلے بغیر چھوڑ دیا۔
کھل کر رو لینے سے انسان ہلکا نہیں ہوتا، بلکہ وہ دوبارہ 'انسان' بن جاتا ہے۔ وہ پتھر ہونے سے بچ جاتا ہے۔
میری یہ ادھوری خواہش کہ "کاش میں کھل کر رو سکتا"، اس بات کی گواہی ہے کہ میرے اندر وہ بچہ اب بھی سسک رہا ہے جو کھلونے ٹوٹنے پر نہیں، بلکہ پوری کائنات کے بکھرنے پر بھی چپ رہا۔ کیا میرے یہ تشنہ آنسو کبھی لفظ بن کر بہہ سکیں گے؟ یا میری یہ خاموشی ہی وہ سب سے بڑی چیخ رہے گی جسے سننے کے لیے عام کان نہیں، بلکہ ایک بوجھل روح چاہیے؟
میں سوچتا ہوں، وہ آنسو جو میرے اندر گرے، کیا وہ اب بھی وہاں مائع ہیں یا وقت کی تپش سے نمک بن کر میرے وجود کی دیواروں کو کھرچ رہے ہیں؟


0 Comments