اداسی کا خوب صورت ہالہ
اداسی ہمیشہ بوجھ نہیں ہوتی، کبھی کبھی یہ روح کا غسلِ صحت بھی بن جاتی ہے۔ اداسی ایک تاریک کمرہ ہے جس سے باہر نکلنا ہی کامیابی ہے، لیکن کیا کبھی آپ نے اس 'خوبصورت اداسی' کے لمس کو محسوس کیا ہے جو کسی پُرانی کتاب کے بوسیدہ ورق سے جھانکتی ہے یا بارش کے بعد مٹی کی سوندھی مہک میں گھل کر آتی ہے؟
کچھ اداسیاں اس دیے کی طرح ہوتی ہیں جو شور نہیں مچاتیں، بلکہ خاموشی سے دل کے ان گوشوں کو روشن کر دیتی ہیں جنہیں ہم نے معمولاتِ زندگی کی گرد تلے دبا دیا ہوتا ہے۔ یہ وہ ملال نہیں جو تھکا دے، بلکہ وہ کیف ہے جو انسان کو اپنے آپ سے ملوا دے۔ جب انسان بھیڑ میں تنہا ہو کر کسی نادیدہ کمی پر مسکرانے لگے، تو سمجھ لیں کہ اداسی نے فن کا روپ دھار لیا ہے۔
یہ اداسی کسی کی کمی کا دکھ نہیں، بلکہ اپنی موجودگی کا احساس ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں عکس دھندلا نہیں، بلکہ زیادہ شفاف نظر آتا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ جسے ہم غم سمجھ کر بھاگ رہے ہیں، وہ دراصل کائنات کا ہم سے ہمکلام ہونے کا ایک خاموش طریقہ ہو؟ وہ اداسی جو آپ کو پتھر بنانے کے بجائے موم کر دے، جو آپ کی آنکھ میں نمی نہیں بلکہ بصیرت بھر دے، کیا وہ واقعی بدصورت ہو سکتی ہے؟
شاید خوشی صرف ایک لہر ہے جو گزر جاتی ہے، مگر یہ دھیمی اداسی وہ ٹھہرا ہوا دریا ہے جس کی تہہ میں زندگی کے اصل موتی چھپے ہوتے ہیں۔


0 Comments