بوڑھی اماں کا لافانی چرخہ کچے گھر کی چھت، بکائن اور شہتوت کے پتوں سے چھنتی ہوئی ٹھنڈی ہوا اور بان کی چارپائی پر لیٹ کر گھنٹوں چاند کو تکنا ۔۔۔۔ یہ محض ایک مشغلہ نہیں، ایک پوری کائنات کا سفر تھا۔ اس وقت چاند ایک آسمانی جسم نہیں بلکہ ایک جادوئی کھڑکی تھی جس کے پار ایک پراسرار بوڑھی اماں اپنے چرخے پر بیٹھی خاموشی سے وقت کاتتی تھی۔ ایک معصوم لڑکا گھنٹوں ساکت پڑا اپنی ننھی سوچوں کے جال بنتا: "یہ اماں تھکتی کیوں نہیں؟ کیا اسے نیند نہیں آتی؟ کیا یہ میرے لیے کوئی ریشمی قمیض تیار کر رہی ہے؟" خیالوں ہی خیالوں میں وہ اس بڑھیا سے کلام کرتا، اپنے دن بھر کے گلے شکوے سناتا اور اسے یقین ہوتا کہ چاند کے گرد پھیلا ہوا ہالہ دراصل اس بڑھیا کی مسکراہٹ ہے۔ وہ بچپن کی ایسی 'محبت' تھی جس میں منطق نہیں، صرف والہانہ پن تھا۔ کبھی دل چاہتا کہ سیڑھی لگا کر اس نقرئی تھال تک پہنچ جائے اور بوڑھی اماں کے ہاتھ بٹائے، اور کبھی ان سیاہ دھبوں کو دیکھ کر اس کا معصوم دل بھر آتا کہ شاید اسے چوٹ لگی ہے۔ اسے کیا معلوم تھا کہ چاند کے یہ داغ دراصل مٹی کے وہ زخم ہیں جو اسے زمین سے جدائی کے وقت ملے تھے۔ چاند زم...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی