زندگی کے سفر میں ہمیں مسلسل لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ کہیں محبت کے پھول کھلتے ہیں، تو کہیں نفرتوں کے کانٹے ہماری راہوں میں بچھ جاتے ہیں۔ یہی اس زندگی کی خوب صورتی ہے۔ ہم اگر ایک معتدل رویہ رکھتے ہوئے اس سفر کو جاری رکھیں تو زندگی ایک تحفہ بن جاتی ہے ورنہ ایک عذاب ۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم نے خود کو تحفظ دینے کے لیے جو دیواریں تعمیر کی ہیں، ان میں سے سب سے مضبوط دیوار "انا" کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ معاف کر دینا کمزوری کی علامت ہے، کہ اگر ہم نے کسی کو معاف کر دیا تو سامنے والا اسے ہماری ہار سمجھے گا، یا شاید ہم خود اپنی نظروں میں گر جائیں گے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ معاف نہ کرنے کے پیچھے سب سے بڑی رکاوٹ ہماری 'انا' ہے۔ یہ وہ خود ساختہ بت ہے جس کی ہم دن رات پوجا کرتے ہیں۔ جب کوئی ہمارا دل دکھاتا ہے، ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے، تو ہماری انا زخموں پر نمک چھڑکتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دیکھو، تمہاری تذلیل کی گئی ہے، تمہارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ چنانچہ ہم انتقام کی آگ میں جلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ انتقام کی آگ میں جلنے والا شخص پہلے خود کو بھسم کرتا ہے، بعد میں سا...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی