ہندسوں میں بٹی ہوئی زندگی ہم رات جب بستر پر لیٹتے ہیں تو دن ہمارے سامنے ایک تجربہ نہیں بلکہ ایک فہرست بن کر کھڑا ہوتا ہے: کتنے قدم چلے، کتنے کام نمٹائے، کتنی بار مسکرائے۔ زندگی اب سانسوں میں نہیں، خانوں میں رکھی جاتی ہے۔ ہندسے بظاہر معصوم ہیں، وہ کسی جذبے کا دعویٰ نہیں کرتے۔ مگر انہی کی آڑ میں ہم نے خود کو پرکھنے کا ایک نیا نظام بنا لیا ہے۔ اب ہم خود سے یہ نہیں پوچھتے کہ دل بھرا ہوا ہے یا خالی، بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ نتائج تسلی بخش ہیں یا نہیں۔ یوں انسان آہستہ آہستہ ایک زندہ وجود سے ایک ڈیٹا پوائنٹ میں بدلنے لگتا ہے۔ یہ تقسیم محض سہولت کے لیے نہیں، یہ ایک خاموش تشکیلِ فکر ہے۔ ہندسے چیزوں کو قابلِ فہم بناتے ہیں، مگر اسی عمل میں وہ انہیں قابلِ اختیار بھی بنا لیتے ہیں۔ جو ناپا جا سکتا ہے، وہ موازنہ میں آتا ہے؛ اور جو موازنہ میں آ جائے، وہ کسی نہ کسی مقابلے کا حصہ بن جاتا ہے۔ یوں زندگی آہستہ آہستہ ایک دوڑ میں بدل جاتی ہے جس کی منزل واضح نہیں، مگر رفتار مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔ اس تقسیم کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ سب کچھ جو ناپا نہیں جا سکتا، آہستہ آہستہ غیر معتبر ہو جاتا ہے۔ وہ بے نام...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی