ہندسوں میں بٹی ہوئی زندگی
ہم رات جب بستر پر لیٹتے ہیں تو دن ہمارے سامنے ایک تجربہ نہیں بلکہ ایک فہرست بن کر کھڑا ہوتا ہے: کتنے قدم چلے، کتنے کام نمٹائے، کتنی بار مسکرائے۔ زندگی اب سانسوں میں نہیں، خانوں میں رکھی جاتی ہے۔
ہندسے بظاہر معصوم ہیں، وہ کسی جذبے کا دعویٰ نہیں کرتے۔ مگر انہی کی آڑ میں ہم نے خود کو پرکھنے کا ایک نیا نظام بنا لیا ہے۔ اب ہم خود سے یہ نہیں پوچھتے کہ دل بھرا ہوا ہے یا خالی، بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ نتائج تسلی بخش ہیں یا نہیں۔ یوں انسان آہستہ آہستہ ایک زندہ وجود سے ایک ڈیٹا پوائنٹ میں بدلنے لگتا ہے۔
یہ تقسیم محض سہولت کے لیے نہیں، یہ ایک خاموش تشکیلِ فکر ہے۔ ہندسے چیزوں کو قابلِ فہم بناتے ہیں، مگر اسی عمل میں وہ انہیں قابلِ اختیار بھی بنا لیتے ہیں۔ جو ناپا جا سکتا ہے، وہ موازنہ میں آتا ہے؛ اور جو موازنہ میں آ جائے، وہ کسی نہ کسی مقابلے کا حصہ بن جاتا ہے۔ یوں زندگی آہستہ آہستہ ایک دوڑ میں بدل جاتی ہے جس کی منزل واضح نہیں، مگر رفتار مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔
اس تقسیم کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ سب کچھ جو ناپا نہیں جا سکتا، آہستہ آہستہ غیر معتبر ہو جاتا ہے۔ وہ بے نام سی گھبراہٹ، وہ اچانک اتر آنے والا سکون، وہ کسی اجنبی کے جملے سے پیدا ہونے والی خاموش سی خوشی۔۔۔۔۔۔ان سب کے لیے ہمارے پاس کوئی خانہ نہیں۔ اس لیے ہم انہیں نظرانداز کرنا سیکھ لیتے ہیں، جیسے وہ زندگی کا حصہ ہی نہ ہوں۔
ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہندسے سہولت کے لیے ہوتے ہیں، معنی کے لیے نہیں۔ مگر جب معنی بھی انہی کے حوالے کر دیے جائیں تو انسان خود ایک حساب بن جاتا ہے۔۔۔۔ فائدہ، نقصان، اضافہ، کمی۔ نہ کوئی وقفہ، نہ کوئی توقف۔
شاید اب سوال یہ نہیں کہ ہم کتنے کامیاب ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کتنا محسوس کرتے ہیں۔ اگر ایک دن تمام اسکرینیں خاموش ہو جائیں، تمام اعداد مٹ جائیں، تو کیا ہمارے اندر کچھ ایسا بچے گا جو صرف ہمارا ہو؟
یا ہم واقعی ہندسوں میں بٹی ہوئی، اور وہیں سمٹی ہوئی، ایک پوری مگر ادھوری زندگی ہیں؟
مزید دلچسپ پوسٹس اور شاعری پڑھیں


0 Comments