نادیدہ ملاقات
یہ جو دیوار پر لٹکی تصویر ہے یا ہوا میں بکھرتی کسی بانسری کی تان۔۔۔۔ یہ محض رنگوں کا اجتماع یا آوازوں کا ارتعاش نہیں، یہ ایک چور دروازہ ہے، جو تمہارے اپنے ہی اندر کی طرف کھلتا ہے۔
فن کار جب کینوس پر اپنا لہو چھڑکتا ہے، تو وہ تمہیں نہیں پکارتا، وہ تو بس اپنے کرب کا بوجھ بانٹتا ہے، مگر تم کیوں تڑپ اٹھتے ہو؟ اس لیے کہ اس رنگ کی اوٹ میں تمہیں اپنا وہ زخم نظر آ جاتا ہے، جسے تم نے وقت کی گرد تلے چھپا کر 'صبر' کا نام دے دیا تھا۔
ہم جسے فن کی جمالیات کہتے ہیں، وہ دراصل ایک آئینہ ہے، جس میں ہم پہلی بار خود کو بن سنور کر نہیں، بلکہ بکھرے ہوئے بالوں اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ دیکھتے ہیں، اور تسلیم کر لیتے ہیں کہ ہم تنہا نہیں ہیں۔
عجیب تماشہ ہے، ہماری پوری زندگی ایک مصلحت ہے، اور فن۔۔۔اس مصلحت کے خلاف ایک خاموش بغاوت۔
وہ آنسو جو کسی غیر کی تخلیق دیکھ کر گرے، وہ تمہاری اپنی ہی گواہی تھے۔
کیا کبھی سوچا ہے؟ اگر دنیا سے رنگ اور راگ مٹ جائیں، تو تم خود تک پہنچنے کا راستہ کیسے ڈھونڈو گے؟
مزید ایسی تحاریر اور شاعری پڑھنے کے لئے درج ذیل لنک کھولئے


0 Comments