Header Ads Widget

Responsive Advertisement

نادیدہ ملاقات

 نادیدہ ملاقات



یہ جو دیوار پر لٹکی تصویر ہے یا ہوا میں بکھرتی کسی بانسری کی تان۔۔۔۔ یہ محض رنگوں کا اجتماع یا آوازوں کا ارتعاش نہیں، یہ ایک چور دروازہ ہے، جو تمہارے اپنے ہی اندر کی طرف کھلتا ہے۔
فن کار جب کینوس پر اپنا لہو چھڑکتا ہے، تو وہ تمہیں نہیں پکارتا، وہ تو بس اپنے کرب کا بوجھ بانٹتا ہے، مگر تم کیوں تڑپ اٹھتے ہو؟ اس لیے کہ اس رنگ کی اوٹ میں تمہیں اپنا وہ زخم نظر آ جاتا ہے، جسے تم نے وقت کی گرد تلے چھپا کر 'صبر' کا نام دے دیا تھا۔
ہم موسیقی نہیں سنتے، ہم تو اس دھن کے بہانے اپنی ہی خاموشی سے مکالمہ کرتے ہیں، وہ آواز ایک پل بن جاتی ہے۔۔۔ ہماری انا کے قلعوں اور ہماری روح کی سسکیوں کے درمیان۔
ہم جسے فن کی جمالیات کہتے ہیں، وہ دراصل ایک آئینہ ہے، جس میں ہم پہلی بار خود کو بن سنور کر نہیں، بلکہ بکھرے ہوئے بالوں اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ دیکھتے ہیں، اور تسلیم کر لیتے ہیں کہ ہم تنہا نہیں ہیں۔
عجیب تماشہ ہے، ہماری پوری زندگی ایک مصلحت ہے، اور فن۔۔۔اس مصلحت کے خلاف ایک خاموش بغاوت۔
وہ آنسو جو کسی غیر کی تخلیق دیکھ کر گرے، وہ تمہاری اپنی ہی گواہی تھے۔
کیا کبھی سوچا ہے؟ اگر دنیا سے رنگ اور راگ مٹ جائیں، تو تم خود تک پہنچنے کا راستہ کیسے ڈھونڈو گے؟

Post a Comment

0 Comments