Skip to main content

اپ ڈیٹد ایڈیشن

 اپ ڈیٹد ایڈیشن



 آج ماضی نے میرے دروازے پر دستک دی، مگر اس کے ہاتھ میں یادوں کی کوئی پرانی البم تھی اور نہ ہی کوئی بوجھل ملال۔ وہ ایک قرض خواہ کی طرح نہیں، بلکہ ایک معمار کی طرح آیا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ ہم جسے ’گزرا ہوا وقت‘ کہہ کر پیچھے چھوڑ آتے ہیں، وہ دراصل پیچھے نہیں چھوٹتا، بلکہ وہ تو ہمارے وجود کی بنیادوں میں چھپ کر ہمیں مستقبل کے سانچے میں ڈھال رہا ہوتا ہے۔

اس کی دستک بہت خاموش تھی، جیسے کسی پرانی کتاب سے سوکھا ہوا پھول گرے۔ اس نے مجھ سے یہ نہیں پوچھا کہ میں نے کیا کھویا، بلکہ اس نے مرے سامنے ایک آئینہ رکھا اور سوال کیا: "تمہارے آج کے اس مضبوط لہجے میں، جوسنجیدگی اور استقامت جھلکتی ہے، کیا تم جانتے ہو اس کی قیمت تمہارے کس درد نے چکائی تھی؟"
ہم اکثر ماضی کو ایک قبرستان سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ ایک لیبارٹری ہے جہاں ہماری شخصیت کے کیمیکل تیار ہوتے ہیں۔ آج مجھے ادراک ہوا کہ وہ جو راستہ میں نے برسوں پہلے غلط سمجھ کر چھوڑ دیا تھا، وہ غلط نہیں تھا، وہ صرف ایک ’تراش‘ تھی تاکہ میں آج اس موڑ پر کھڑا ہو سکوں جہاں روشنی واضح ہے۔
ماضی کی یہ دستک کوئی نوحہ نہیں تھی، بلکہ ایک خاموش مکالمہ تھا کہ جو ہم بن چکے ہیں، اس میں ان لمحوں کا کتنا بڑا حصہ ہے جنہیں ہم نے کبھی ’رائیگاں‘ قرار دیا تھا۔
دروازہ بند کرتے وقت مجھے پہلی بار یہ خوفناک سچائی سمجھ آئی کہ ہم اپنے ماضی سے پیچھا نہیں چھڑاتے، بلکہ ہم خود اپنے ماضی کا ایک اپ ڈیٹڈ ایڈیشن ہوتے ہیں جو خود کو ایک نیا نام دے کر دھوکہ دیتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...