میں نے خود کو سمجھانا چھوڑ دیا
میں نے خود کو سمجھانا اس دن چھوڑ دیا جب مجھے احساس ہوا کہ ہر دلیل مجھے کسی نتیجے تک نہیں، صرف ایک نئی وضاحت تک لے جاتی ہے۔ جیسے میں اپنے ہی اندر ایک مقدمہ لڑ رہا ہوں—گواہ بھی میں، وکیل بھی، اور منصف بھی۔ مگر فیصلہ کبھی صادر نہیں ہوتا۔ ہم سمجھانے کو سکون سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ اکثر بے چینی کو مہذب شکل دینے کا ہنر ہوتا ہے۔
میں نے دیکھا، ہم خود کو اس لیے نہیں سمجھاتے کہ ہم حقیقت تک پہنچنا چاہتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہم سوال سے بچنا چاہتے ہیں۔ سوال تکلیف دہ ہوتا ہے، اور جواب ہمیں وقتی پناہ دے دیتا ہے۔ ہر جواز ایک باریک چلمن کی طرح ہوتا ہے، جو نہ چھپاتا ہے نہ دکھاتا ہے ۔ اس طرح ہم خود کو قائل کرتے رہتے ہیں، اور دھیرے دھیرے اپنی ہی باتوں کے عادی ہو جاتے ہیں۔
سمجھانا دراصل ایک ترتیب ہے—خیالات کو قطار میں کھڑا کرنا، احساسات کو خانوں میں بانٹ دینا۔ مگر زندگی اکثر قطار میں نہیں چلتی۔ وہ بے ترتیب آتی ہے، سوال بن کر، کیفیت بن کر، اور کبھی ایک ایسی خاموشی کی صورت جو کسی نتیجے کا تقاضا نہیں کرتی۔ میں نے اسی خاموشی میں پہلی بار خود کو بغیر کسی لیبل کے دیکھا۔
ایک دن میں نے خود کو درست ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ نہ الزام دیا، نہ صفائی پیش کی۔ اس لمحے مجھے اندازہ ہوا کہ خاموش رہنا انکار نہیں، بلکہ قبولیت کی ایک صورت بھی ہو سکتی ہے۔ وہاں کوئی فتح نہیں تھی، کوئی ہار نہیں—صرف ایک ٹھہراؤ تھا، جو دلیل سے زیادہ گہرا تھا۔
اب میں ہر بات کو سمجھانے کی کوشش نہیں کرتا۔ کچھ باتیں وضاحت نہیں، گنجائش مانگتی ہیں۔
شاید اصل سوال یہ نہیں کہ ہم خود کو کتنا سمجھا پاتے ہیں،
بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم خود کو بغیر سمجھے بھی قبول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟

0 Comments