Header Ads Widget

Responsive Advertisement

ایک سوال جو کبھی پوچھا نہیں گیا

 ایک سوال جو کبھی پوچھا نہیں گیا



میں نے خود سے بہت کچھ پوچھا ہے: موسم، حالات، لوگوں کے بدلتے رویّے، حتیٰ کہ تقدیر کی نیت تک۔ مگر ایک سوال تھا جو ہمیشہ گفتگو سے باہر رہا، جیسے کمرے میں رکھا وہ آئینہ جس پر کپڑا ڈال دیا جائے۔ وہ سوال یہ نہیں تھا کہ میں ناکام کیوں ہوا یا مجھے کیا ملا؟ ۔۔۔وہ سوال اس سے زیادہ خاموش اور زیادہ خطرناک تھا: کیا میں نے وہ زندگی جینے کی کوشش کی جس کا امکان میرے اندر رکھا گیا تھا؟
ہم عموماً سوال وہی پوچھتے ہیں جن کے جواب ہمارے پاس کسی نہ کسی شکل میں پہلے سے موجود ہوں۔ مگر یہ سوال ایسا تھا جو جواب مانگتا ہی نہیں، صرف سچائی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس سچائی کا جو کسی دن اچانک سامنے آ جائے تو سارا حساب بدل دے۔ میں نے محسوس کیا کہ میں نے اپنے اندر کی کئی آوازوں کو صرف اس لیے خاموش رکھا کہ وہ میرے بنائے ہوئے نقشے میں فٹ نہیں آتی تھیں۔ میں نے خود کو مصروف رکھا، معقول فیصلوں میں، مناسب راستوں میں، تاکہ یہ سوال بول نہ سکے۔
یہ سوال خطرناک اس لیے نہیں تھا کہ اس کا جواب مشکل تھا، بلکہ اس لیے کہ اس کا جواب سب کچھ بدل سکتا تھا۔ یہ مجھے بتا سکتا تھا کہ میں نے اپنی ذات کے ساتھ کتنی احتیاط برتی، اور کتنی بزدلی۔ میں نے خود کو مصروف رکھا۔۔درست رویّوں، قابلِ قبول سوچ، اور وہ زندگی جینے میں جسے سب معقول کہتے ہیں۔۔۔تاکہ یہ سوال کبھی مکمل صورت اختیار نہ کر سکے۔
اب جب یہ سوال خاموشی سے میرے شعور کے کنارے پر آ کھڑا ہوتا ہے، تو میں اسے ہٹاتا نہیں۔ میں جان گیا ہوں کہ بعض سوال جواب کے لیے نہیں ہوتے، وہ صرف یہ جانچنے آتے ہیں کہ انسان واقعی زندہ ہے یا صرف اپنی ہی ترتیب میں سانس لے رہا ہے۔ اور شاید یہی سوال انسان کو آئینہ نہیں دکھاتا، بلکہ آئینہ ہٹا دیتا ہے۔
#نوریات
#نثرانچہ
#اردو

مزید پڑھیں

Post a Comment

0 Comments