یادیں بھی بوسیدہ ہو جاتی ہیں
ہم یادوں کو اکثر محفوظ خانوں میں بند سمجھتے ہیں، جیسے وہ وقت کے شور سے بے نیاز ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یادیں بھی سانس لیتی ہیں، اور سانس لینے والی ہر شے پر عمر کا اثر پڑتا ہے۔ کچھ یادیں دھیرے دھیرے اپنے کنارے کھو دیتی ہیں؛ رنگ وہی رہتا ہے مگر معنی سرک جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ذہن کے کسی کونے میں رکھی ہوئی کوئی شے، جس پر روزمرہ کی گرد خاموشی سے بیٹھتی رہتی ہے۔ یا شاید یادیں بھی کپڑوں کی طرح ہیں—پہنی جائیں تو بدن کا حصہ لگتی ہیں، تہہ کرکے رکھ دی جائیں تو رفتہ رفتہ اپنی بُنت کھونے لگتی ہیں۔ کچھ یادیں دھوپ میں رکھی تصویروں کی طرح مدھم ہو جاتی ہیں، اور کچھ نمی میں پڑی کتابوں کی مانند بوسیدہ—صفحے سلامت رہتے ہیں مگر الفاظ اکھڑ جاتے ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ یادوں کی شکست و ریخت میں ماضی سے زیادہ ہمارا حال شریک ہوتا ہے۔ آج کا دکھ، کل کی خوشی میں شامل ہو جاتا ہے؛ آج کی تھکن، ماضی کی چمک کو دھندلا دیتی ہے۔ ہم ایک ہی واقعے کو ہر موڑ پر نئے زاویے سے دیکھتے ہیں، اور ہر نظر کے ساتھ وہ واقعہ کچھ اور ہو جاتا ہے۔ ہم اپنی یادوں کو بچانے کی بہت کوشش کرتے ہیں۔ بار بار سنبھالنا، دکھانا، جتلانا—یہ سب محبت کے طریقے ہیں، مگر شاید یہی لمس انہیں کمزور بھی کر دیتا ہے۔ جیسے کوئی پرانا خط، جسے پڑھتے پڑھتے کاغذ پھٹنے لگتا ہے۔
کچھ یادیں اس لیے بھی بوسیدہ ہو جاتی ہیں کہ ہم انہیں چھوڑنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ہم انہیں سہارا بناتے ہیں، حالانکہ وہ خود کسی سہارے کی محتاج ہو چکی ہوتی ہیں۔ شاید یادوں کا بوسیدہ ہونا نقصان نہیں، ایک اشارہ ہے—کہ اب انہیں سنبھالنے کے بجائے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بعض یادیں محفوظ رہنے کے لیے نہیں ہوتیں ،مکمل رہنے کے لیے نہیں ہوتیں۔۔۔۔بس ہمیں بدلنے کے لیے ہوتی ہیں۔


0 Comments