آسمانی لکن میٹی سنہری کرنوں نے فرشِ گیتی کو چومنے کا ذرا جھجھک کر، خیال باندھا کہ سرمئی بادلوں کا کوئی شریر ٹکرا جو اک طرف بے خودی میں رقصاں،رواں دواں تھا لپک کے آیا اورشوخ کرنوں کو سرمئی جال میں لپیٹا مگر وہ کرنیں مچل کے نکلیں اور اپنے روشن وجود سے منظروں کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھیرتے خود بھی ہنس پڑیں تھیں #نوریات
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی