آسمانی لکن میٹی
سنہری کرنوں نے
فرشِ گیتی کو چومنے کا
ذرا جھجھک کر، خیال باندھا
جو اک طرف بے خودی میں رقصاں،رواں دواں تھا
لپک کے آیا
اورشوخ کرنوں کو سرمئی جال میں لپیٹا
مگر وہ کرنیں مچل کے نکلیں
اور اپنے روشن وجود سے
منظروں کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھیرتے
خود بھی ہنس پڑیں تھیں


0 Comments