وادیِ سون سکیسر: ازل کی بازگشت سکیسر کی چوٹی پر جب وقت اپنی تھکن اتارتا ہے تین ضلعوں کے افق پر ایک پر شکوہ سکوت اترتا ہے کوہستان نمک کا سلسلہ محض مٹی اور نمک کا ڈھیر نہیں صدیوں کے حافظے کی ایک کتاب ہے جس کے ہر ورق پر جفاکش ہاتھوں نے وقار کی نئی داستان لکھی ہے اوچھالی جھیل سکیسر کے دامن میں گری ہوئی آسمان کی وہ آنکھ ہے جس میں سائیبیریا کے مسافر پرندے اپنی ہجرتوں کا جواز ڈھونڈتے ہیں اس کا نیلا پانی، وقت کے نمکین ذائقے کو اپنے اندر سموئے ہوئے انسان کی داخلی تنہائی کا ایک خاموش استعارہ ہے کھبیکی جھیل پر اتری معجزاتی مٹھاس بتاتی ہے کہ فطرت بھی اپنے زخم بھرنے کا ہنر جانتی ہے اس کے ٹھہرے ہوئے عکس میں کائنات خود کو دیکھ کر حیران ہوتی ہے اور جاہلرجھیل وہ گمنام اور پر اسرار درویش جھیل جو دنیا کے ہنگاموں سے دُور پہاڑوں کی اوٹ میں تپسیا کر رہی ہے اس کا پانی روح کے اس گوشے کی طرح ہے جہاں پہنچنے کے لیے انسان کو خود سے ہجرت کرنی پڑتی ہے کنہٹی باغ کی ہریالی وادی سون کے سینے پر قدرت کا دستِ شفا ہے جہاں چشموں کا موسیقی جیسا بہاؤ زندگی کے ابدی تسلسل کی گواہی دیتا ہے پرانے درختوں کا سایہ ...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی