کبھی کبھی
ہم کسی کے لیے اتنا میسر ہوتے ہیں
جتنا کتاب میں پڑے ہوئے پھول کی خوشبو
جو ہوتی تو ہے، مگر محسوس نہیں ہوتی
جیسے دیوار پر لٹکی ہوئی وہ گھڑی
جو وقت تو بتاتی ہے
مگر خود ایک جگہ ٹھہری رہتی ہے
ہم بھی تو ایک جگہ ٹھہرے ہوئے لوگ ہیں
جنہیں وقت کا دریا
کنارے پر چھوڑ کر آگے نکل گیا ہے
Comments
Post a Comment