تم نے کبھی سوچا ہے؟
ہمارے اندر جو اداسی کا ایک نمکین ذائقہ ہے
وہ کسی پرانے زخم کی یاد نہیں
بلکہ اس ان کہے کا ملبہ ہے
جو ہم نے عمر بھر اظہار کی دہلیز پر روکا۔
ہم سب اپنے اپنے وجود کے زندان میں
ایسے قیدی ہیں
جو دیواروں پر دستک تو دیتے ہیں
مگر یہ نہیں جانتے کہ دوسری طرف بھی کوئی انسان ہے
یا صرف اپنی ہی دستک کی بازگشت!
محبت...
کوئی آسمانی صحیفہ نہیں تھی
وہ تو بس دو تپتے ہوئے صحراؤں کا ایک دوسرے کی طرف فطری میلان تھا
اس امید میں کہ شاید ریت کے ملنے سے
کہیں کوئی نخلستان اگ آئے۔
مگر ہم بھول گئے کہ
پیاس جب حد سے بڑھ جائے
تو سراب بھی حقیقت کا لباس پہن لیتے ہیں۔
اب ہم یادوں کی الماریوں میں
پرانی قمیصوں کی طرح اپنے خوابوں کو لٹکا دیتے ہیں
اور وقت کی دیمک
خاموشی سے ہمارے جذبوں کے ریشم کو چاٹتی رہتی ہے۔
کبھی کبھی جی چاہتا ہے
کہ لفظوں کے اس بھاری لبادے کو اتار پھینکوں
اور تمہارے سامنے ایک خالی صفحے کی طرح بچھ جاؤں
جس پر نہ کوئی حرفِ شکایت ہو
اور نہ ہی وصال کی کوئی لکیر
بس ایک خاموش اعتراف ہو
کہ ہم نے جینے کی کوشش میں
کتنی بار خود کو اندر سے مارا ہے۔
آؤ!
کہ وقت کی اس تند لہر کے تھمنے سے پہلے
ہم ایک دوسرے کے ماتھے پر لکھی تھکن پڑھ لیں
اور ان جزیروں کی خبر لیں جہاں ہم کبھی پہنچ نہ سکے
ہم صرف سانسوں کا تسلسل اور بدن کی قید نہیں
ہم وہ دائمی دستک ہیں
جو صدیوں سے کسی بند دروازے کے کھلنے کی منتظر ہے!
Comments
Post a Comment