Skip to main content

بستیوں کی مہک اور لفظوں کے گورکھ دھندے

 

انسانی زندگی کی بساط پر بچھے ہوئے تمام رنگ دراصل اس ایک ادھوری کہانی کے مختلف ابواب ہیں، جسے ہم روز جیتے اور روز لکھتے ہیں۔ کبھی یہ کہانی "مان جانے" کی اس آخری التجا پر آ ٹھہرتی ہے جہاں دل دلیلوں کے بوجھ سے تھک کر صرف واسطوں کی پناہ ڈھونڈتا ہے، اور کبھی یہ ہجر کی ان کالی راتوں کا رزم نامہ بن جاتی ہے جہاں آنکھوں کی لال سرخی وقت کے ضیاع کا نوحہ سناتی ہے۔ ہم ایک ایسی مشینی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جہاں منزل کا تو شاید کسی کو علم نہیں، مگر ہر شخص ہانپ رہا ہے۔ ہم اپنے آج کو کسی ان دیکھے کل کی قربان گاہ پر ذبح کر دیتے ہیں اور پھر عمر بھر ان یادوں کے ملبے سے زندگی تلاش کرتے ہیں جنہیں ہم نے خود ہی ٹھکرا دیا تھا۔ 

معاشرے کی مصنوعی چمک دمک اور لفظوں کے گورکھ دھندے نے ہمارے اندر کے اس فطری سکون کو نگل لیا ہے جو کبھی سادہ گفتگو، بے غرض رفاقت اور سچے جذبوں میں میسر تھا۔ آج کے دور میں کامیابی کا معیار بدل چکا ہے؛ اب ضمیر کی آواز پر کان دھرنا نادانی تصور کیا جاتا ہے اور مفاد کی زبان بولنا عقلمندی۔ ہم نے اپنے سماجی قد تو اونچے کر لیے مگر ان کے سائے میں بسنے والے انسان بونے ہوتے گئے۔ رشتوں کی بنیاد اب مروت اور لحاظ کے بجائے ضرورت کے ترازو پر رکھی جاتی ہے۔ جب تک کسی سے مطلب وابستہ ہے، وہ ہماری توجہ کا مرکز رہتا ہے، اور جیسے ہی ضرورت ختم ہوئی، وہی جیتا جاگتا وجود ایک غیر ضروری بوجھ بن جاتا ہے۔

کتنا عجیب ہے کہ ہم رابطوں کے سیلاب میں گھرے ہونے کے باوجود اندر سے بالکل خالی ہو چکے ہیں۔ ہماری گفتگو اب آوازوں کا تبادلہ تو ہے، مگر ان میں وہ تاثیر نہیں رہی جو روح کو چھو لے۔ ہم نے اپنی زندگیوں کو اشتہارات کی طرح سجا لیا ہے، جہاں باہر سے سب کچھ مکمل نظر آتا ہے لیکن اندر ٹوٹ پھوٹ کا ایک طویل سلسلہ جاری ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ مٹی کے ان مکانوں میں اصل رونق دیواروں سے نہیں، بلکہ ان جذبوں سے ہوتی ہے جو کسی بھی ترازو میں تولے نہیں جا سکتے۔

تعلق کی دیوار اٹھانا جتنا دشوار ہے، اسے گرنے سے بچانا اس سے کہیں زیادہ کٹھن۔ ہم نے اپنی زندگی کے بہترین سال ان صحراؤں کی خاک چھاننے میں گزار دیے جہاں لوگ قدم رکھنے سے بھی کتراتے تھے۔ شاید اس لیے کہ ہمیں عام سی خوشیوں کے ہجوم میں وہ سکون میسر نہیں تھا جو تنہائی کے وافر رنج میں ملتا ہے۔ ہم نے کبھی اپنی دراڑوں کو اشتہار نہیں کیا، حالانکہ وجود کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ اس حد تک تھی کہ اگر ذرا سی جنبش ہوتی تو سب کچھ بکھر جاتا۔ رشتوں کی کتاب میں ہم نے ان ناموں کو کھرچ کھرچ کر مٹانے کی کوشش تو کی جو کبھی اشجار کے سینے پر نقش تھے، مگر وہ نقش دل کی دیواروں میں اور گہرے ہو گئے۔ اب حال یہ ہے کہ نئی خوشی دستک بھی دے تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں یہ اس پرانے غم سے بے وفائی نہ ہو جائے جو ہمارا واحد سچا ساتھی رہا ہے۔

انسان جب تک اپنی ذات کے حصار میں قید رہتا ہے، وہ ایک محدود اور اندھیری کوٹھری کا اسیر ہوتا ہے۔ اصل بیداری تو تب ہے جب وہ اس "میں" کے خول کو توڑ کر کائنات کے پھیلاؤ میں گم ہو جائے۔ یہ سفر اپنے وجود کو مٹانے کا ہے، تاکہ اس مٹتی ہوئی راکھ سے ایک نئی روشنی جنم لے سکے۔ سچا عشق وہی ہے جو انسان کو مصلحتوں کی قید سے نکال کر آبرو بخشے اور اسے اس مقام پر لا کھڑا کرے جہاں وہ اپنی آواز نہیں بلکہ کائنات کی دھڑکن بن جائے۔ دنیا کی مختصر سی فرصت میں سارا ہنر یہ ہے کہ بندہ اپنی خود پسندی کو تیاگ کر اس چاند کی طرح بن جائے جو سورج کی روشنی سے منور ہوتا ہے۔

کبھی کبھی زندگی اس مقام پر آ ٹھہرتی ہے جہاں تمام بستیاں اور تمام دعائیں بے اثر محسوس ہونے لگتی ہیں۔ ہم ایک ایسے خالی پن کا شکار ہو جاتے ہیں جہاں پھولوں بھرے باغ تو موجود ہیں مگر خوشبو کا دور دور تک پتہ نہیں۔ یہ وہ عالم ہے جہاں شہر کی رونقیں اور شور تو قائم ہے، مگر وہ حقیقی سوزِ صدا غائب ہے جو روح کو تڑپا دیا کرتا تھا۔ جب وہ ایک وجود ہی میسر نہ ہو جو کائنات کا مرکز تھا، تو پھر یہ ساری دنیا محض ایک بوجھ بن کر رہ جاتی ہے۔ ہم نے اپنی انا کے بڑے بڑے تخت ان راستوں پر وار دیے جہاں مروت اور وفا کی کوئی قیمت نہیں تھی۔ یہ کتنی بڑی آزمائش ہے کہ انسان اپنی خودی کو پامال کر کے بھی اس منزل سے خالی ہاتھ لوٹے جس کے لیے اس نے اپنے اصولوں تک کی قربانی دی ہو۔

وہ چہرے جو کبھی ہماری بستیوں کی مہک ہوا کرتے تھے،  صرف آنکھوں سے اوجھل ہونے سے وہ مٹ نہیں جاتے۔ یادوں کی خوشبو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتی ہے اور جب موسم بدلتا ہے تو وہی پرانے عکس نئے دنوں کی روشنی میں دوبارہ جھلملانے لگتے ہیں۔ وقت کا پہیہ اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے؛ کبھی گندم کے کھیتوں میں لہریں اٹھتی ہیں اور کبھی رتیں خاک آلود ہو جاتی ہیں، مگر زمین کا سینہ کبھی سانحوں سے خالی نہیں رہتا۔ ہماری زندگی ان طے شدہ ضابطوں کی پابند نہیں جہاں حوادث کے نوٹس جاری کیے جائیں۔ ہم نے تو جینا ان کٹھن راستوں اور گم رہوں سے سیکھا ہے جہاں دھوپ کی تپش بھی ایک نشے کی طرح محسوس ہوتی ہے۔

اصل کمال تو یہ ہے کہ ہم کسی لمحے کو ادھورا نہ رہنے دیں اور ہر گزرتی ساعت سے اس کے حصے کا رس نچوڑ لیں، چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہو۔ زندگی کی سب سے بڑی صداقت کسی فلسفے یا کتاب میں نہیں، بلکہ اس لمحے میں چھپی ہوتی ہے جب پوروں سے نکلنے والا لمس روح کی سرسراہٹ بن جائے۔ کبھی کبھی لفظ اپنے معنی کا بوجھ نہیں اٹھا پاتے اور مطالب کی حدوں سے نکل کر ایک ایسے جہاں میں جا بستے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ ہماری آنکھوں کے زاویوں تک محدود وہ خاموش پیغام، کسی بھی طویل گفتگو سے زیادہ بلیغ اور پُرتاثیر ہوتے ہیں۔ ہم نے عمر بھر ایسے سفر بھی کیے جہاں منزل کی تمنّا نہیں تھی، بلکہ وہ راستہ ہی خود میں ایک منزل تھا۔

کمال یہ نہیں کہ ہم صرف خوشیوں کے ہم سفر بنیں، بلکہ اصل ہنر تو خزاں کی تپتی رت میں اپنے لہجے کی شگفتگی کو گلاب بنا کر بچائے رکھنا ہے۔ زندگی اکثر ہمیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں ہوا کی زد پر چراغ جلانا نامکن معلوم ہوتا ہے، مگر عزمِ جرات مندانہ وہی ہے جو بجھتی ہوئی لو کو اپنے حوصلے سے دوبارہ زندگی بخش دے۔ تعلقات کی نازک ڈور کو زمانے کی تلخیوں سے بچا کر رکھنا اور بچھڑنے کے کرب میں دوسروں کو تسلی دیتے ہوئے اپنے آنسوؤں کو ضبط کے پردے میں چھپا لینا ہی وہ ظرف ہے جو انسان کو عام سے خاص بنا دیتا ہے۔

خودی کا تقاضا صرف اپنی پسند یا مزاج کی تسکین نہیں، بلکہ اصل کمال اس خاموش ایثار میں ہے جہاں ہم دوسروں کی راحت کے لیے اپنی انا کے کانٹے چن لیں اور پھر صلے کی تمنا کیے بغیر اپنی نگاہیں جھکا لیں۔ جب ہمارے سامنے دکھوں کا لشکر صف آرا ہو، تب لبوں پر مسکراہٹ کی ڈھال سجا لینا ہی وہ فتح ہے جس کے آگے شکست بھی سرنگوں ہو جاتی ہے۔ طاقت اور دلیل کے باوجود لہجے میں دعا کی خوشبو اور ادب کی لذت برقرار رکھنا وہ معراج ہے جہاں پہنچ کر انسان "میں" کے محدود دائرے سے نکل کر انسانیت کے وسیع تر آفاق میں شامل ہو جاتا ہے۔

ہمیں اکثر یہ گمان ہوتا ہے کہ ہم وقت کو گزار رہے ہیں، حالانکہ وقت ہمیں گزار رہا ہوتا ہے۔ ان چوبی مکانوں کی چمنیوں سے اٹھتا ہوا دھواں ہو یا کسی بوڑھے چرواہے کا ابد کی جانب سفر، سب اس بات کی گواہی ہیں کہ یہاں کچھ بھی مستقل نہیں۔ ہم سب ایک دوسرے کو کسی نہ کسی موڑ پر ضرور ملیں گے—چاہے وہ کسی نظم کا مصرعہ ہو، کسی خواب کی ویرانی ہو، یا وہ ملگجی شام جہاں شانے پر سر رکھے ہوئے دنیا کے تمام عکس دھندلا جاتے ہیں۔ 

وہی سچ باقی رہ جاتا ہے جو آنکھوں کی چمک اور لہجے کی حرارت سے عیاں ہو، ورنہ یہ دنیا داری کی تمام رونقیں تو محض ایک بے کار خواب ہیں جو آنکھ موندتے ہی ٹوٹ جاتے ہیں۔ ہمیں تو بس اس ایک لمحے کی تلاش ہے جہاں "میں" سے "تو" تک کا فاصلہ مٹ جائے اور دل دوبارہ کسی پرسکون منزل کی پناہ پالے۔ یاد رکھیے، زندگی کسی جبر کا عنوان نہیں، بلکہ ایک مہکتا ہوا سچ ہے، بشرطیکہ ہم اسے کرچیوں کو سمیٹنے کے بجائے پورے دل سے جینا سیکھ لیں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر