Skip to main content

ظرف کی معراج

 کمال یہ نہیں کہ ہم صرف خوشیوں کے ہم سفر بنیں، بلکہ اصل ہنر تو خزاں کی تپتی رت میں اپنے لہجے کی شگفتگی کو گلاب بنا کر بچائے رکھنا ہے۔ زندگی اکثر ہمیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں ہوا کی زد پر چراغ جلانا ناممکن معلوم ہوتا ہے، مگر عزمِ جرات مندانہ وہی ہے جو بجھتی ہوئی لو کو اپنے حوصلے سے دوبارہ زندگی بخش دے۔ تعلقات کی نازک ڈور کو زمانے کی تلخیوں سے بچا کر رکھنا اور بچھڑنے کے کرب میں دوسروں کو تسلی دیتے ہوئے اپنے آنسوؤں کو ضبط کے پردے میں چھپا لینا ہی وہ ظرف ہے جو انسان کو عام سے خاص بنا دیتا ہے۔

خودی کا تقاضا صرف اپنی پسند یا مزاج کی تسکین نہیں، بلکہ اصل کمال اس خاموش ایثار میں ہے جہاں ہم دوسروں کی راحت کے لیے اپنی انا کے کانٹے چن لیں اور پھر صلے کی تمنا کیے بغیر اپنی نگاہیں جھکا لیں۔ جب ہمارے سامنے دکھوں کا لشکر صف آرا ہو، تب لبوں پر مسکراہٹ کی ڈھال سجا لینا ہی وہ فتح ہے جس کے آگے شکست بھی سرنگوں ہو جاتی ہے۔ طاقت اور دلیل کے باوجود لہجے میں دعا کی خوشبو اور ادب کی لذت برقرار رکھنا وہ معراج ہے جہاں پہنچ کر انسان "میں" کے محدود دائرے سے نکل کر انسانیت کے وسیع تر آفاق میں شامل ہو جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر