Skip to main content

ظرف کی معراج

 کمال یہ نہیں کہ ہم صرف خوشیوں کے ہم سفر بنیں، بلکہ اصل ہنر تو خزاں کی تپتی رت میں اپنے لہجے کی شگفتگی کو گلاب بنا کر بچائے رکھنا ہے۔ زندگی اکثر ہمیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں ہوا کی زد پر چراغ جلانا ناممکن معلوم ہوتا ہے، مگر عزمِ جرات مندانہ وہی ہے جو بجھتی ہوئی لو کو اپنے حوصلے سے دوبارہ زندگی بخش دے۔ تعلقات کی نازک ڈور کو زمانے کی تلخیوں سے بچا کر رکھنا اور بچھڑنے کے کرب میں دوسروں کو تسلی دیتے ہوئے اپنے آنسوؤں کو ضبط کے پردے میں چھپا لینا ہی وہ ظرف ہے جو انسان کو عام سے خاص بنا دیتا ہے۔

خودی کا تقاضا صرف اپنی پسند یا مزاج کی تسکین نہیں، بلکہ اصل کمال اس خاموش ایثار میں ہے جہاں ہم دوسروں کی راحت کے لیے اپنی انا کے کانٹے چن لیں اور پھر صلے کی تمنا کیے بغیر اپنی نگاہیں جھکا لیں۔ جب ہمارے سامنے دکھوں کا لشکر صف آرا ہو، تب لبوں پر مسکراہٹ کی ڈھال سجا لینا ہی وہ فتح ہے جس کے آگے شکست بھی سرنگوں ہو جاتی ہے۔ طاقت اور دلیل کے باوجود لہجے میں دعا کی خوشبو اور ادب کی لذت برقرار رکھنا وہ معراج ہے جہاں پہنچ کر انسان "میں" کے محدود دائرے سے نکل کر انسانیت کے وسیع تر آفاق میں شامل ہو جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر