معافی کا لفظ جب کسی کی زبان سے ادا ہوتا ہے، تو وہ دراصل اپنی انا کا بوجھ آپ کے قدموں میں رکھ دیتا ہے۔ اس لمحے ہمارا دل اکثر ایک منصف بن کر یہ تولنے لگتا ہے کہ اس کے لفظوں میں سچ کتنا ہے اور دکھاوا کتنا؟ ہم سامنے والے کے ماتھے کی شکنوں میں شرمندگی تلاش کرتے ہیں، جیسے کوئی ادھوری تحریر میں چھپے ہوئے معنی ڈھونڈ رہا ہو۔
مگر سچ تو یہ ہے کہ کسی کے سینے کے اندر جھانکنے کا ہنر انسان کو دیا ہی نہیں گیا۔ جب کوئی آپ سے اپنے عمل کی معذرت کر لے، تو اس کی نیت کی تلاشی لینا آپ کا کام نہیں۔ معاف کر دینا دراصل دوسرے پر احسان نہیں، بلکہ اپنے آپ کو اس ذہنی قید سے نکالنا ہے جو غصے اور بدلے کی صورت میں ہمیں جکڑے رکھتی ہے۔
جب ہم کسی کے کہے ہوئے "معذرت" کے لفظ کو قبول کر لیتے ہیں، تو ہم دراصل زندگی کے ایک الجھے ہوئے باب کو بند کر دیتے ہیں۔ ہمیں اس بحث میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں کہ وہ کتنا سچا ہے، کیونکہ دلوں کے حال پر اس کی حکمرانی ہے جو شہ رگ سے بھی قریب ہے۔
راستے کے کچھ پتھر ہٹا دینے ہی میں عافیت ہوتی ہے، ورنہ ٹھوکر کا ڈر ہمیشہ پیچھا کرتا رہتا ہے۔ کسی کو معاف کر کے آگے بڑھ جانا اس لیے ضروری ہے تاکہ آپ کا اپنا سفر ہلکا ہو سکے۔ حساب برابر کرنا ہمارا منصب نہیں، ہمارا کام تو بس اپنے دامن کو نفرت کی گرد سے صاف رکھنا ہے۔
Comments
Post a Comment