شکر کی دھوپ اور ضمیر کا استفسار بعض اوقات صبح کا اجالا صرف کھڑکیوں کے شیشے ہی نہیں توڑتا، بلکہ ہمارے اندر جمی ہوئی برف کو بھی پگھلانے کی کوشش کرتا ہے۔ آج کی یہ سرد صبح بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ جنوری کے آخری ایام، کمرے میں پھیلی ہوئی مخصوص خنکی اور باہر کہرے کی وہ دبیز چادر جس نے کائنات کے ہر منظر کو ایک پراسرار خاموشی میں لپیٹ رکھا ہے۔ لیکن اس دھند کے پیچھے ایک سورج ہے، جو ابھی پوری طرح نمودار نہیں ہوا مگر اس کی تپش ہواؤں میں محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ جمعہ کی صبح ہے، اور جمعہ محض ایک دن نہیں، ایک کیفیت کا نام ہے—ایک ایسی کیفیت جو آپ کو مجبور کرتی ہے کہ آپ اپنی دوڑتی بھاگتی زندگی کے پہیے کو ذرا دیر کے لیے روک دیں اور خود سے ایک سوال کریں: "اس تمام ہنگامہ آرائی کا حاصل کیا ہے؟ " ہماری زندگی بھی ان سردیوں کی دھند کی طرح ہو گئی ہے۔ ہم چل تو رہے ہیں، مگر منزلیں دھندلی ہیں۔ ہم بول تو رہے ہیں، مگر الفاظ میں تاثیر نہیں۔ ہم مانگ تو بہت کچھ رہے ہیں، مگر جو ہاتھ میں ہے اس کی قدر نہیں۔ آج جب میں نے چائے کی پیالی تھامے اس سنہری روشنی کو فرش پر پھیلتے دیکھا، تو مجھے احساس ہوا کہ ہم کائنات کے...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی