Skip to main content

خاموش دریا اور حرفِ آرزو



زندگی اکثر ایسے موڑ پر  انسان کو کھڑا کر دیتی  ہے جہاں الفاظ کا ذخیرہ کم پڑنے لگتا ہے اور خاموشی ایک طویل، گہری گفتگو میں بدل جاتی ہے۔ کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ہمارے اندر کا دریا جب تک خاموش رہتا ہے، تب تک ہم اپنی حدود میں رہتے ہیں، اپنی ذات کے ساحلوں تک محدود، اپنی انا کے خول میں بند؟ لیکن جس لمحے یہ دریا گفتگو سیکھ لیتا ہے، جس لمحے اس کا سکوت ٹوٹ کر لہروں کی صورت اختیار کرتا ہے، تب ہم محض انسان نہیں رہتے، ہم محبت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

یہ محبت محض پانی کا بے سمت پھیلاؤ نہیں ، بلکہ یہ وہ گداز ہے جو انسان کو کائنات کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ہم سب اپنے اندر ایک دریا لیے پھرتے ہیں۔ کسی کا دریا غم کی تلخیوں سے بوجھل ہے، تو کسی کا دریا وصل کی مسرتوں سے چھلک رہا ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ جب تک یہ دریا اپنی خاموشی کا پردہ چاک نہیں کرتا، اس کے اندر چھپے موتیوں کی آب و تاب دنیا کے سامنے نہیں آتی۔

محبت کا سفر  کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ انسان کو پہلے دریا بناتا ہے، اسے بہنا سکھاتا ہے، اسے پتھروں سے ٹکرانا اور ان کے سینے کو چیر کر راستہ بنانا سکھاتا ہے۔ اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہی دریا، اپنی تمام تر وسعتوں کے ساتھ، سمندر کی آغوش میں جا گرتا ہے۔ وہ سمندر، جو رب کی ذات کا استعارہ ہے، جہاں جا کر انسان اپنی تمام تر شناختیں کھو دیتا ہے، مگر اسے ایک ایسی شناخت ملتی ہے جو ابدی ہے۔

اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ زمین ان کی بات نہیں مانتی۔ حالات ان کے موافق نہیں ہوتے۔ وقت ان کا ساتھ نہیں دیتا۔ مگر میں کہتا ہوں کہ زمین صرف ان کی بات مانتی ہے جن کا دکھ سچا ہو اور جن کا لہجہ عاجزی سے گندھا ہو۔ زمین، جو خود ایک خاموش گواہ ہے، وہ ان کے درد کو پہچانتی ہے جو زمین کی نبض پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس سے ہم کلام ہونا جانتے ہیں۔ آپ کا دکھ، اگر وہ مخلص ہے، تو وہ زمین کے سینے پر لکھی ہوئی ایسی تحریر ہے جسے وقت کے ہاتھ بھی نہیں مٹا سکتے۔

دیکھیے، زندگی کا دکھ یہ نہیں کہ ہم سے کچھ چھن گیا، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے خود کو محسوس کرنا چھوڑ دیا۔ ہم نے اپنی روح کو ان ہنگاموں کے سپرد کر دیا جو باہر کی دنیا کا شور ہیں۔ اندر کا سکون، وہ جو دل کی گہرائیوں میں کسی کنول کی طرح کھلتا ہے، اسے ہم نے اپنی مصروفیتوں کی گرد تلے دبا دیا ہے۔ کیا ہم کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اپنے آپ سے ملے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی اپنے اندر کے اس دریا کی سرگوشیاں سنی ہیں؟

بانٹنے کا عمل شکر گزاری کی بہترین صورت ہے جو دراصل اسی اندرونی دریا کو رواں رکھنے کا نام ہے۔ جب آپ بانٹتے ہیں، تو آپ ثابت کرتے ہیں کہ آپ کے پاس جو کچھ ہے، وہ محدود نہیں ہے۔ آپ کا علم، آپ کی خوشی، آپ کا دکھ، آپ کی مسکراہٹ—یہ سب جب دوسروں تک پہنچتے ہیں، تو ایک عجیب سا توازن پیدا ہوتا ہے۔ یہ توازن ہی کائنات کا حسن ہے۔

زندگی کے اس سفر میں، جہاں ہر شخص اپنی ایک الگ کہانی لیے پھر رہا ہے، ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ کیسے دوسرے کے دکھ کو اپنا سمجھا جائے۔ کیسے دوسرے کی مسکراہٹ میں اپنی خوشی تلاش کی جائے۔ یہ کوئی مشکل فلسفہ نہیں ہے۔ یہ بس دل کو تھوڑا سا کشادہ کرنے کا نام ہے۔ جس دن آپ کا دل کشادہ ہو گیا، اس دن آپ کو معلوم ہوگا کہ کائنات کا ہر ذرہ آپ سے ہم کلام ہے۔ درختوں کی سرسراہٹ، ہوا کا دھیما پن، بارش کی بوندوں کی تال ۔۔۔یہ سب آپ کی ذات کے ساتھ جڑ جائیں گے۔

ہمیں اپنی انا کے ان حصاروں کو گرانا ہوگا جو ہم نے خود اپنے گرد کھڑے کر رکھے ہیں۔ ہم نے خود کو دوسروں سے الگ کر کے اپنی ایک الگ دنیا بنا لی ہے، مگر اصل زندگی تو دوسروں کے ساتھ مل کر جینے میں ہے۔ دوسروں کو خوشیاں دینے میں ہے۔ جب آپ کسی ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے رب کی رضا حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ اور وہی رب، جو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، وہ آپ کی ہر دھڑکن، ہر سانس اور ہر خاموش آرزو کو جانتا ہے۔

آئیے، اس سفر میں کچھ ایسا کریں کہ جب ہم جائیں تو ہمارے پیچھے ایک ایسا نقش چھوڑ جائیں جو آنے والوں کے لیے رہنمائی کا سبب ہو۔ یہ نقش کوئی یادگاریں یا تعمیرات نہیں ہوں گی، بلکہ یہ وہ محبتیں ہوں گی جو ہم نے لوگوں کے دلوں میں بوئی ہیں۔ یہ وہ خیر کا کام ہوگا جو ہم نے خاموشی سے انجام دیا ہوگا۔

اپنے اندر کے دریا کو بند مت کیجیے۔ اسے بہنے دیجیے۔ اسے گفتگو سکھائیے۔ اسے محبت کی زبان میں ڈھلنے دیجیے۔ کیونکہ جب آپ کا اندر کا دریا بولتا ہے، تو کائنات کی ہر زبان اس کی ترجمانی کرنے لگتی ہے۔ آپ کا ہر لفظ ایک دعا بن جاتا ہے اور آپ کا ہر عمل ایک عبادت۔ اسی کیفیت کا نام تو زندگی ہے۔ 

یہ راستہ، یہ سفر، یہ تڑپ، یہ سب کچھ اس ذات کی طرف جاتا ہے جس کے عشق میں کائنات کا ذرہ ذرہ رقص کناں ہے۔ اپنے آپ کو اس رقص میں شامل کر لیجیے۔ پھر دیکھیے کہ زندگی کیسے ایک حسین اور لازوال داستان بن جاتی ہے۔

یقین رکھیے، آپ کا ہر آنسو رائیگاں نہیں جائے گا۔ آپ کی ہر دعا زمین کے سینے کو چیر کر آسمان تک پہنچے گی۔ بس شرط یہ ہے کہ آپ اپنے دل کو شفاف رکھیں، اپنے اندر کی سچائی کو برقرار رکھیں، اور بانٹنے کا وہ ہنر کبھی نہ بھولیں جو آپ کو انسان بناتا ہے۔ کیونکہ دینے والے ہاتھ لینے والے ہاتھ سے ہمیشہ بہتر ہوتے ہیں۔ اور جو دیتا ہے، اسے کائنات کی ہر نعمت لوٹا کر دیتی ہے۔

یہی وہ فلسفہ ہے جس سے زندگی کو بامقصد بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ زاویہ ہے جس سے دنیا کو دیکھا جائے تو ہر طرف نور ہی نور نظر آتا ہے۔ اب فیصلہ آپ کا ہے: کیا آپ خاموش رہ کر سمٹنا چاہتے ہیں، یا دریا بن کر بہنا چاہتے ہیں؟ انتخاب آپ کا ہے، اور یہی انتخاب آپ کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...