Skip to main content

Posts

Showing posts with the label پرکھنے کا فن،

پرکھنے کا فن

دنیا ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کو پرکھو، جانچو، اس کے لہجے کو سمجھو اور پھر قدم آگے بڑھاؤ۔ لیکن کچھ لوگ ایسے "مینوفیکچرنگ فالٹ" کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں کہ انہیں پرکھنے کا ہنر آ ہی نہیں پاتا۔ ان کے لیے کسی کی مسکراہٹ ایک مکمل مہرِ تصدیق ہوتی ہے۔ وہ الفاظ کے پیچھے چھپے مفاد کو نہیں دیکھ پاتے، بلکہ لہجے کی مٹھاس کو شہد سمجھ کر غٹا غٹ پی جاتے ہیں۔ دراصل، کسی کو پرکھنے کے لیے شک کا چشمہ پہننا پڑتا ہے، اور جن کی آنکھوں میں پہلے ہی اعتبار کا سرمہ لگا ہو، وہ شک کی عینک لگا ہی نہیں پاتے ۔۔چاہے وہ جتنی بار بھی دھوکا کھا لیں۔ ایک دوست نے واقعہ سنایا کہ ایک بار وہ بازار میں کھڑے تھے کہ ایک اجنبی شخص دوڑتا ہوا آیا، ان کے گلے لگ گیا اور بڑی گرمجوشی سے بولا، "ارے بھائی! کتنے سالوں بعد ملے ہو، پہچانا مجھے؟" وہ ہکا بکا رہ گئے۔ انہیں یاد نہیں آ رہا تھا کہ یہ صاحب کون ہیں، لیکن چونکہ وہ شخص اتنی "محبت" اور "اپنائیت" سے ملا تھا، تو انہیں لگا کہ شاید ان کی یادداشت ہی کمزور ہو گئی ہے۔ انہوں نے شرمندگی سے بچنے کے لیے فوراً کہا، "ہاں ہاں! کیوں نہیں، کیسے ہو میاں؟ گھر ...