دنیا ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کو پرکھو، جانچو، اس کے لہجے کو سمجھو اور پھر قدم آگے بڑھاؤ۔ لیکن کچھ لوگ ایسے "مینوفیکچرنگ فالٹ" کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں کہ انہیں پرکھنے کا ہنر آ ہی نہیں پاتا۔ ان کے لیے کسی کی مسکراہٹ ایک مکمل مہرِ تصدیق ہوتی ہے۔ وہ الفاظ کے پیچھے چھپے مفاد کو نہیں دیکھ پاتے، بلکہ لہجے کی مٹھاس کو شہد سمجھ کر غٹا غٹ پی جاتے ہیں۔
دراصل، کسی کو پرکھنے کے لیے شک کا چشمہ پہننا پڑتا ہے، اور جن کی آنکھوں میں پہلے ہی اعتبار کا سرمہ لگا ہو، وہ شک کی عینک لگا ہی نہیں پاتے ۔۔چاہے وہ جتنی بار بھی دھوکا کھا لیں۔
ایک دوست نے واقعہ سنایا کہ ایک بار وہ بازار میں کھڑے تھے کہ ایک اجنبی شخص دوڑتا ہوا آیا، ان کے گلے لگ گیا اور بڑی گرمجوشی سے بولا، "ارے بھائی! کتنے سالوں بعد ملے ہو، پہچانا مجھے؟"
وہ ہکا بکا رہ گئے۔ انہیں یاد نہیں آ رہا تھا کہ یہ صاحب کون ہیں، لیکن چونکہ وہ شخص اتنی "محبت" اور "اپنائیت" سے ملا تھا، تو انہیں لگا کہ شاید ان کی یادداشت ہی کمزور ہو گئی ہے۔ انہوں نے شرمندگی سے بچنے کے لیے فوراً کہا، "ہاں ہاں! کیوں نہیں، کیسے ہو میاں؟ گھر والے سب ٹھیک ہیں؟"
وہ اجنبی کہنے لگا، "بھائی، بس ایک پریشانی میں پھنس گیا ہوں، پرس گھر بھول آیا اور گاڑی کا پیٹرول ختم ہو گیا۔ اگر آپ پانچ ہزار دے دیں تو احسان ہوگا، میں کل واپسی کر دوں گا۔"
"جھوٹی اپنائیت" کے زیرِ اثر انہوں نے جیب سے پیسے نکال کر دے دیے۔ وہ شخص شکریہ ادا کر کے رفو چکر ہو گیا۔
میں نے پوچھا کہ پھر اس نے پیسے واپس کیے ۔ وہ بڑے اطمینان سے بولے، "یار، سچ تو یہ ہے کہ میں اسے جانتا ہی نہیں تھا۔ بس اس نے جس طرح ہنس کر مجھے گلے لگایا، جس اپنائیت کا اظہار کیا ۔ میں دھوکہ کھا گیا ۔ لیکن کوئی بات نہیں ۔ یہ دھوکے زندگی کا حصہ ہیں۔
اب آپ کہیں گے کہ ایسے لوگ بے وقوف ہوتے ہیں، لیکن میرا خیال الگ ہے۔ دراصل یہ لوگ "انسانیت کے آخری دفاعی مورچے" ہیں۔ اگر دنیا میں صرف پرکھنے والے ہی رہ جائیں تو دنیا ایک بہت بڑی لیبارٹری بن جائے گی جہاں ہر رشتے کا پوسٹ مارٹم ہوگا۔ کسی کو پرکھنے کا فن نہ آنا دراصل ایک ایسی نعمت ہے جو آپ کو دنیا کی کڑواہٹ سے بچا کر ایک خوبصورت واہمے میں رکھتی ہے۔
ہاں، جیب خالی ہو جاتی ہے، کبھی کبھی دل بھی ٹوٹ جاتا ہے، لیکن کم از کم آپ کا یہ ایمان تو قائم رہتا ہے کہ "انسان اچھے ہوتے ہیں"۔ پرکھنے والے تو صرف عیب ڈھونڈتے ہیں، جبکہ بغیر پرکھے مر مٹنے والے صرف محبت ڈھونڈتے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کو "چس" لوٹنے میں نہیں، لٹ جانے میں ملتی ہے۔ شاید اسی لئے کہتے ہیں
"لٹ تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے"
Comments
Post a Comment