سچ پوچھیں نا تو زندگی کا اصل ذائقہ بے ترتیبی میں ہے جو ہم چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی غور کیجیے، ایک بالکل صاف ستھرا اور سلیقے سے سجا ہوا کمرہ کتنا بے جان لگتا ہے، جیسے کسی نمائش کا حصہ ہو۔ اس کے برعکس، وہ میز جس پر چائے گری ہو یا بسکٹ کے ٹکڑے پڑے ہوں ، ادھ کھلی کتاب ہو اور چند بکھرے ہوئے کاغذ ہوں، وہ پکار پکار کر کہتی ہے کہ یہاں کوئی زندہ انسان جی رہا ہے۔
ہماری خامیاں ہی دراصل ہماری حقیقی پہچان ہیں۔ ایک پرفیکٹ انسان، جس کے پاس ہر بات کا منطقی جواب ہو اور جس کا ہر جذبہ نپا تلا ہو، وہ ایک الگورتھم تو ہو سکتا ہے، انسان نہیں۔ انسان ہونے کا مزہ تو اس وقت ہے جب آپ کسی غلط موڑ پر مڑ جائیں اور وہاں سے کوئی ایسا منظر نظر آ جائے جو نقشے پر موجود ہی نہ تھا۔
کائنات کا سب سے بڑا حسن اس کا نامکمل ہونا ہے۔ جب ہم ایک ٹوٹے ہوئے برتن کو سونے کے ٹانکے لگا کر جوڑتے ہیں تو وہ پہلے سے زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ ہماری زندگی کے زخم بھی ایسے ہی ٹانکے ہیں۔ یہ وہ نشانات ہیں جو بتاتے ہیں کہ ہم نے وقت سے جنگ لڑی ہے، ہم گرے ہیں اور پھر سے اٹھے ہیں۔
آج اپنے کمال (Perfection) کی تلاش چھوڑ کر اپنی خستہ حالی کا جشن منائیے۔ وہ بات جو آپ کہنا چاہتے تھے مگر زبان لڑکھڑا گئی، وہ خط جو آپ نے لکھا مگر کبھی پوسٹ نہیں کیا، وہ خواب جو ادھورا رہ گیا۔۔۔ یہی آپ کا اصل اثاثہ ہیں۔ زندگی یادگاروں میں نہیں، ان خالی جگہوں میں بستی ہے جنہیں ہم کبھی بھر نہیں پاتے۔
خوشی یہ نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے، خوشی یہ ہے کہ سب کچھ بکھرا ہوا ہونے کے باوجود آپ اس بے ترتیبی کے بیچ کھڑے ہو کر مسکرا سکیں۔
Comments
Post a Comment