سچ تو یہ ہے کہ ہم انسان بھی عجیب مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ کبھی اتنے ثقیل ہو جاتے ہیں کہ پہاڑ بھی راستہ بدل لیں، اور کبھی اتنے ہلکے کہ کسی کی ایک مسکراہٹ یا شعر کا کوئی اچھوتا مصرع ہمیں ہواؤں میں اڑانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو آج کل کی ہماری یہ زندگی خود ایک پیچیدہ "بحر" بن چکی ہے، بالکل کسی غزل کی طرح۔ کبھی ہمیں لگتا ہے کہ ہم اوزان اور تقطیع کے تمام قواعد پر پورا اتر رہے ہیں، اور کبھی اچانک پتا چلتا ہے کہ وقت کی کسی سنگین غلطی نے ہمیں "خارج از بحر" مصرعے کی طرح اکیلا چھوڑ دیا ہے۔
ہم سارا دن ڈیٹا، اسکرینوں، سودے بازیوں اور معیشت کے محاصرے میں رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی شام ڈھلتی ہے، ہمارے اندر کا وہ پرانا انسان جاگ اٹھتا ہے جو کسی گلی کی سوندھی مٹی اور پیپل کی چھاؤں ڈھونڈنے نکل پڑتا ہے۔ یہ شاید ہماری فطرت کا وہ گوشہ ہے جسے ہم دنیا کی تمام تر پروفیشنل چکا چوند سے چھپا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم دن بھر بڑے دانشور بن کر پھرتے ہیں، مگر جیسے ہی کوئی پرانی یاد ذہن کے کسی فولڈر پر دستک دیتی ہے، ہماری ساری دانشوری دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ پھر ہم وہی بچے بن جاتے ہیں جو مٹی پر کائی دیکھ کر حیران ہوتے ہیں یا آسمان پر ستارے گننے بیٹھ جاتے ہیں۔
اصل میں زندگی کسی بھاری بھرکم فلسفے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ان چھوٹے چھوٹے گپ شپ کے لمحوں کا نام ہے جو ہم کبھی خود سے کرتے ہیں اور کبھی اپنے سائے سے۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ کائنات کا سارا حسن ان چیزوں میں ہے جو کہیں پڑی ہوئی ملتی ہیں۔ الماری میں پڑی ہوئی کوئی پرانی کتاب، آنکھوں کے گرد ٹھہری ہوئی ہلکی سی نمی، یا وہ خاموشی جو لفظوں کے درمیان کسی گہری بات کی طرح اوندھی پڑی ہوتی ہے۔
تو صاحب! زندگی کو بہت زیادہ سنجیدگی کے ترازو میں تولنا چھوڑ دیں۔ کبھی کبھی اپنی ذات کے متروک فولڈرز کو بھی ری فریش کر لیا کریں، کیا پتا وہاں کوئی ایسی یاد پڑی ہو جو آپ کے آج کے دن کو اکتارے کی طرح سریلا بنا دے۔ آخر ہم سب بھی تو اس کائنات کے اسٹیج پر کسی ادھورے افسانے کے وہ کردار ہیں جن کا ابھی اپنا سب سے خوبصورت مکالمہ بولنا باقی ہے۔
Comments
Post a Comment