جنگل میں بکھرے رنگوں سے ملاقات جنگل کی خاموشی میں ایک عجیب سی گفتگو ہوتی ہے، جہاں درخت صرف پہرہ نہیں دے رہے ہوتے بلکہ آپ سے سرگوشیاں کرتے ہیں۔ میں اس پگڈنڈی پر اکیلا نہیں تھا، میرے ساتھ کچھ ہمراہی تھے جنہیں ہم عام طور پر صرف ’دیکھتے‘ ہیں، کبھی ’سنتے‘ نہیں۔ وہ رنگ تھے۔ راستے کے آغاز پر ایک قدیم پیپل کا درخت تھا جس کے پتے زرد ہو کر زمین پر ایک قالین بچھا چکے تھے۔ میں نے قدم رکھا تو ایک خشک پتے نے چہک کر کہا، "آہستہ میاں! ہم بوڑھے ضرور ہیں، بے جان نہیں۔" میں ٹھٹک کر رک گیا۔ یہ زرد رنگ تھا۔ اس کی آواز میں خزاں کی تھکن تھی مگر لہجہ کسی صوفی جیسا تھا۔ "تم لوگ گرتے کیوں ہو؟" میں نے پوچھا۔ زرد رنگ مسکرایا (یا شاید ہوا نے پتوں کو جنبش دی): "گرنا ہمیشہ زوال نہیں ہوتا۔ ہم اس لیے گرتے ہیں تاکہ درخت کو بوجھ سے بچا سکیں۔ ہم وہ قربانی ہیں جو بہار کے وعدے پر دی جاتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ پیلا پڑ جانا بیماری ہے، جبکہ یہ تو تسلیم و رضا کی معراج ہے۔ ہم نے سورج کی ساری تپش جذب کر لی، اب اسے مٹی کو لوٹا رہے ہیں۔" اس فلسفے نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہماری زندگیوں میں ...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی