Skip to main content

آگہی کا لمحہ


سبھی شور تھم گیا ہے
دریا کے تلاطم میں ایک ٹھہراؤ ہے
اب کوئی تمنا نہیں
کہ ساحل ملے یا نہ ملے
آگہی کے اس جزیرے پر
صرف میں ہوں اور میرا خدا ہے
جہاں وقت کی قید ہے نہ یادوں کا بوجھ
صرف ایک ابدی لمحہ ہے
جو سانس کی ڈور سے بندھا ہوا ہے
اور یہی زندگی ہے!

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر