سبھی شور تھم گیا ہے
دریا کے تلاطم میں ایک ٹھہراؤ ہے
اب کوئی تمنا نہیں
کہ ساحل ملے یا نہ ملے
آگہی کے اس جزیرے پر
صرف میں ہوں اور میرا خدا ہے
جہاں وقت کی قید ہے نہ یادوں کا بوجھ
صرف ایک ابدی لمحہ ہے
جو سانس کی ڈور سے بندھا ہوا ہے
اور یہی زندگی ہے!
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی
Comments
Post a Comment