بانسری کی تان اور خاموش دستک دھوپ سروں سے ڈھل کر درختوں کے شانوں پر بکھر رہی تھی، جب مسافر نے جنگل کے دہانے پر قدم رکھا۔ اس کی پگڈنڈی ریتلی اور پیاسی تھی۔ شہر کا شور پیچھے رہ گیا تھا، اور اب ہر قدم کے ساتھ ایک نئی، گہری خاموشی اسے اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔ ہوا میں مٹی اور گیلی گھاس کی ملی جلی باس تھی، جو اسے برسوں پرانے کسی خواب کی یاد دلا گئی۔ وہ چلتا رہا، جب تک کہ مدھم بانسری کی ایک تان اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ تان ایسی تھی، جیسے کوئی پرندہ اپنی آخری اُڑان بھر رہا ہو۔ مسافر نے آواز کا پیچھا کیا۔ ایک چھوٹے سے ٹیلے پر، جہاں سبزہ ذرا زیادہ گہرا تھا، ایک ادھیڑ عمر چرواہا بیٹھا تھا، اس کی بھیڑیں اور بکریاں آس پاس چر رہی تھیں۔ چرواہے کا چہرہ دھوپ اور ہواؤں سے جھلسا ہوا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجب سی ٹھہراؤ تھا، جیسے اس نے زندگی کے بہت سے موسم اپنی آنکھوں میں بسائے ہوں۔ بانسری اس کے ہونٹوں سے جدا ہوئی تو اس نے مسافر کو دیکھا، ہونٹوں پر ایک تھکی ہوئی مسکراہٹ ابھری۔ "سلامتی ہو بھائی،" چرواہا بولا، اس کی آواز میں بھی بانسری کی سی نرمی تھی۔ "شہر کے لوگ کم ہی اس راستے آتے ہی...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی