کبھی آپ نے غور کیا ہےکہ ہم زندگی کی شاہراہ پر چلتے ہوئے ہزاروں چہروں کو دیکھتے ہیں، بہت سوں سے ہاتھ ملاتے ہیں، کچھ کے ساتھ طویل مسافتیں طے کرتے ہیں، اور پھر کسی موڑ پر رک کر جب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو احساس ہوتا ہے کہ کچھ ملاقاتیں ایسی تھیں جن کے بعد روح میں ایک عجیب سی خنکی، ایک تسکین اور ایک ناقابل بیان ٹھہراؤ اتر آیا، جیسے کسی تھکے ہوئے مسافر نے طویل سفر کے بعد بوجھل کندھوں سے گٹھڑی اتار دی ہو۔ اس کے برعکس، کچھ ملاقاتیں ایسی بھی رہیں جو ہمیں پہلے سے زیادہ بوجھل، اداس اور خالی کرجاتی ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
یہ سوال محض جذباتی نہیں، یہ انسانی نفسیات اور روحانی کیمیا کا ایک پیچیدہ سا نچوڑ ہے۔
میرا ماننا ہے کہ جن لوگوں سے مل کر ہمیں ہلکا پھلکا محسوس ہوتا ہے، وہ دراصل ہمارے وجود کے لیے ’آئینہ‘ ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے ہمیں خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہم جیسے ہیں، جس حال میں ہیں، وہ ہمیں اسی طرح قبول کر لیتے ہیں۔ یہ ملاقاتیں محض الفاظ کے تبادلے کا نام نہیں ہوتیں، بلکہ یہ دو روحوں کا ایک ہم آہنگ خاموشی میں بیٹھ جانا ہے۔ جب آپ کسی ایسے شخص کے سامنے ہوتے ہیں جس کے دل میں آپ کے لیے کوئی تعصب، کوئی توقع یا کوئی چھپی ہوئی چالاکی نہیں ہوتی، تو آپ کے وجود کے گرد لپٹے ہوئے دفاعی حصار خود بخود گرنے لگتے ہیں۔
ہلکا پن تب محسوس ہوتا ہے جب آپ کو اپنے گرد ایک نادیدہ حصار اوڑھنا نہیں پڑتا۔ جب آپ کو اپنی مسکراہٹ کے پیچھے دکھ چھپانے نہیں پڑتے، جب آپ کو اپنی کامیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹنے یا اپنی ناکامیوں کی صفائیاں دینے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی۔ ایسے لوگ آپ کی خاموشی کو بھی سمجھ لیتے ہیں۔ وہ آپ کے جملوں کے ان حصوں کو بھی سن لیتے ہیں جو آپ کے ہونٹوں سے ادا نہیں ہوئے۔ یہ ملاقاتیں کسی جھرنے کی طرح ہوتی ہیں جو ذہن کے تمام الجھے ہوئے تاروں کو دھو کر صاف کر دیتی ہیں۔ ان سے مل کر لگتا ہے جیسے آپ نے اپنی روح کے کمرے کی کھڑکیاں کھول دی ہوں اور تازہ ہوا اندر آ گئی ہو۔
دوسری طرف وہ ملاقاتیں ہیں جو ہمیں بوجھ سے بھر دیتی ہیں۔ یہ بوجھ کسی پتھر کا نہیں، بلکہ توقعات، منافقت اور انا کا ہوتا ہے۔ جن لوگوں سے مل کر بوجھ محسوس ہوتا ہے، ان کے سامنے آپ کو ہمیشہ ایک کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ آپ کو سنبھل کر بولنا ہوتا ہے، آپ کو اپنی ہر بات کا وزن تولنا پڑتا ہے کہ کہیں یہ بات ان کی انا کو مجروح نہ کر دے۔ ان کے سامنے آپ کا وجود ایک ایسے قیدی کی طرح ہوتا ہے جو اپنی ہی زنجیروں کو سنبھال کر چل رہا ہو۔
ایسے لوگوں سے ملاقات کے بعد آپ کو ایک عجیب سا ذہنی تعفن محسوس ہوتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہاں سچ مفقود ہوتا ہے۔ وہاں رشتوں کا نہیں، رتبوں ، عہدوں اورمفاد کا کاروبار ہوتا ہے۔ وہ آپ کو آپ کی حیثیت سے نہیں، بلکہ آپ کی افادیت سے تولتے ہیں۔ جہاں انسان کو انسان کے بجائے ایک سورس سمجھا جائے، وہاں بوجھ کا پیدا ہونا تو فطری ہے۔ کچھ لوگ اپنی موجودگی میں ہی ایک حبس پیدا کر دیتے ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر ایسا لگتا ہے جیسے آپ کسی ایسی گاڑی میں سوار ہیں جس کے پہیے کیچڑ میں پھنس گئے ہیں۔ آپ کا دل چاہتا ہے کہ جلد سے جلد وہاں سے اٹھیں، اپنی گاڑی کو کسی کھلی اور ہوا دار جگہ لے جائیں، اور خود کو اس حبس سے نکال کر کسی اطمینان کی پناہ میں چھپا لیں۔
یہ بوجھ کہاں سے آتا ہے؟ یہ بوجھ اکثر ہماری اپنی توقعات سے جنم لیتا ہے۔ ہم کسی سے ملنے جاتے ہیں تو دل میں ایک گمان ہوتا ہے، ایک تصویر ہوتی ہے کہ شاید یہ ملاقات میری تنہائی دور کر دے گی، شاید یہ شخص میرے دکھ کو سمجھ لے گا۔ مگر جب وہاں جا کر ہمیں صرف اپنی بات سنانے کی جلدی اور دوسرے کی بے رخی ملتی ہے، تو وہ توقع کا بوجھ ہمارے سینے پر آ گرتا ہے۔
ہم کتنے عجیب لوگ ہیں! ہم اس بوجھ کو بھی سینے سے لگائے رکھتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی، جن کی صحبت ہمیں زہر لگتی ہے۔ شاید یہ ہماری کمزوری ہے کہ ہم تنہائی سے ڈرتے ہیں، اس لیے ہم زہریلی صحبت کو بھی برداشت کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ، ایک تنہا لمحہ، کسی بوجھل ملاقات سے کہیں زیادہ قیمتی اور شفاف ہوتا ہے۔
زندگی کا سارا فلسفہ اسی ایک نقطے پر آ کر رک جاتا ہے کہ آپ کن لوگوں کے ساتھ اپنی روح کو ننگا کر سکتے ہیں۔ جس کے سامنے آپ رو سکیں، بغیر یہ سوچے کہ وہ آپ کی کمزوری کا مذاق اڑائے گا، وہی آپ کا حقیقی ساتھی ہے۔ جس کی موجودگی آپ کو آپ کے اپنے قریب کر دے، وہی آپ کا اصل ہم سفر ہے۔
آئیے، ہم آج خود سے ایک عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی کے اس مختصر سے سفر میں ایسے لوگوں کو جمع کریں گے جن کے ساتھ مل کر سانس لینا آسان ہو جائے۔ ہمیں ان لوگوں کو چھوڑنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے جو ہماری توانائیوں کو چوس لیتے ہیں اور ہمارے دل پر بوجھ بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ وقت بہت کم ہے، اور زندگی کی حقیقت ان چند لمحات میں پوشیدہ ہے جب ہم خود کو ہلکا اور پرواز کے لیے تیار محسوس کرتے ہیں۔
یاد رکھیے، آپ کا وجود ایک کائنات ہے، اسے ان لوگوں کی نذر نہ کیجیے جو آپ کو چھوٹا محسوس کرواتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے پاس جائیے جو آپ کی موجودگی میں خود کو ہلکا محسوس کریں، کیونکہ صرف وہی رشتہ سچا اور پائیدار ہے جہاں دونوں طرف سے ایک دوسرے کا بوجھ ہلکا کیا جاتا ہو۔ وہی ملاقاتیں تو زندگی کا حقیقی اثاثہ ہیں، باقی سب تو بس وقت کا ضیاع ہے، ایک ایسا بوجھ جسے اٹھائے ہم اپنی ہی قبر کھودتے رہتے ہیں۔
Comments
Post a Comment