Skip to main content

Posts

Showing posts from March, 2026

آخری سرحد کا سکوت

شہر کی آخری حد پر بنے اس پرانے مکان کی چھت سے جب سورج ڈھلتا تھا، تو دیواروں پر پڑنے والے سائے کسی نوحے کی طرح طویل ہو جاتے تھے۔ زویا نے کھڑکی کے پٹ بند کیے تو لکڑی کی چرچراہٹ نے کمرے کے سناٹے میں ایک لرزہ پیدا کر دیا۔ باہر سڑک پر ٹریفک کا شور مدھم پڑ چکا تھا، مگر اس کے اندر کی دنیا میں ایک ایسی خاموشی تھی جو کسی بھی شور سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے۔ میز پر رکھے تانبے کے گلدان میں مرجھائے ہوئے پھول اپنی آخری خوشبو چھوڑ چکے تھے۔ زویا نے ان کی پتیوں کو چھوا۔ وہ خشک ہو کر جھڑ رہی تھیں۔ اسے لگا وہ خود بھی ان پتیوں جیسی ہے، جو شاخ سے ٹوٹنے کے بعد زمین کی مٹی ہونے کا انتظار کر رہی ہیں۔ لیکن نہیں، مٹی ہونا تو تسلیمِ خم ہے، اور وہ ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی تھی۔ تین سال پہلے جب وہ اس گھر میں آئی تھی، تو وہ موم جیسی تھی۔ اتنی نرم کہ سامنے والے کی ایک آہ پر پگھل جاتی۔ وہ حارث کی خوشی کے سانچے میں خود کو ڈھالنے کے فن سے واقف تھی۔ حارث کو چائے میں چینی کم پسند تھی، تو زویا نے اپنی زندگی سے مٹھاس کم کر دی۔ اسے اونچی آواز ناپسند تھی، تو زویا نے اپنی ہنسی کو سرگوشیوں میں بدل لیا۔ یہ اس کی کمزوری نہیں تھی...

سرکاری فائلیں اور انسانی خواب

  اسلام آباد کی سرد و گرم دوپہروں میں، جب سورج کی شعاعیں سرکاری دفاتر کی گرد آلود کھڑکیوں سے چھن کر اندر آتی ہیں، تو وہ اکثر ان کاغذوں کے پلندے پر پڑتی ہیں جنہیں ہم فائل کہتے ہیں۔ باہر کی دنیا میں زندگی اپنے پورے شور و ہنگامے کے ساتھ رواں اداں ہوتی ہے، مگر ان دفتروں کی الماریوں میں ایک عجیب سی خاموشی دفن ہوتی ہے۔ یہ خاموشی کاغذوں کی نہیں ہے، یہ ان خوابوں کی سسکیاں ہیں جو برسوں سے ایک دستخط کے منتظر ہیں۔ عام آدمی کے لیے فائل محض کاغذوں کا ایک پلندہ، ایک ہندسہ یا ایک بے جان اندراج ہوتی ہے۔ مگر کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ان پیلے پڑتے کاغذوں کے پیچھے گوشت پوست کے جیتے جاگتے انسان چھپے ہوتے ہیں؟ کسی فائل کے اندر ایک بیوہ کے وظیفے کا سوال ہوتا ہے جس سے اس کے چولہے کی آگ وابستہ ہوتی ہے۔ کسی بستے میں ایک نوجوان کی ملازمت کا پروانہ دبا ہوتا ہے جس پر پورے خاندان کی خوشیوں کا دارومدار ہوتا ہے۔ کسی معائنے میں ایک دیانتدار اہلکار کی ترقی کا معاملہ ہوتا ہے جو تیس سال کی خدمت کے بعد صرف ایک جائز حق کا طالب ہوتا ہے۔ ہم جب کسی فائل پر اعتراض لگا کر اسے ایک میز سے دوسری میز پر منتقل کرتے ہیں،...

خسارے کی نمائش

ہماری ساری عمر دراصل ایک پرشکوہ پردہ داری کی نذر ہو جاتی ہے۔ ہم اس خوف کے مارے اپنے گرد لفظوں، ڈگریوں اور دانائی کے جھوٹے حصار تعمیر کرتے ہیں کہ کہیں کوئی ہماری اس معصوم جہالت کو نہ دیکھ لے، جو ہمیں پیدائشی طور پر ودیعت ہوئی تھی۔ عجیب تماشہ ہے کہ ہم اس خالی پن کو بھرنے کے بجائے اسے ڈھانپنے کے فن میں طاق ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کبھی ہم خاموشی کا لبادہ اوڑھ کر خود کو پراسرار عالم ثابت کرتے ہیں اور کبھی غیر ضروری بحث کی گرد اڑا کر اپنی نادانی کے کھوکھلے پن کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی تنہائی میں ٹھہر کر سوچیے کہ اگر ہم اپنے اس کم علمی یا معصوم جہالت کو ایک بوجھ کے بجائے ایک وسعت سمجھ لیتے، تو زندگی کتنی سہل ہوتی؟ ہم نے تو اپنی کم علمی کو ایک عیب بنا لیا ہے، حالانکہ یہی وہ واحد رستہ تھا جو سچی حیرت کی طرف کھلتا تھا۔ ہم نے پختگی کا وہ نقاب پہن رکھا ہے جو ہمیں کھل کر ہنسنے دیتا ہے اور نہ ہی نادان بن کر سوال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہم ایک ایسی دوڑ کے شریکِ سفر ہیں جہاں جیت کا معیار یہ ہے کہ کون اپنی محرومی کو کتنے سلیقے سے چھپا سکتا ہے۔ جب سفر تمام ہونے کو ہوتا ہے، تب احساس ہوتا ہے کہ جس سچ کو ...

ننگے پاؤں کی بادشاہت اور بارش کے دن

انسانی زندگی کے اس طویل اور تھکا دینے والے سفر میں اگر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے بہت کچھ پانے کی تگ و دو میں وہ سب کھو دیا جو دراصل ہمارا اپنا تھا۔ ہم نے تہذیب کے نام پر جوتے پہن لیے، شائستگی کے نام پر بارش سے بچنے کے لیے چھتریاں تان لیں اور آسائش کے نام پر فطرت سے وہ رشتہ توڑ لیا جو ہمیں مٹی سے جوڑے ہوئے تھا۔ آج جب میں اپنے اردگرد ان بچوں کو دیکھتا ہوں جو بند جوتوں اور استری شدہ کپڑوں میں قید ہیں، تو سچی بات ہے، مجھے ان پر بڑا ترس آتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اس کائنات کے سب سے بڑے لمس سے محروم ہیں، جسے دھرتی کی محبت کہا جاتا ہے۔ جس شخص نے بچپن میں کبھی ننگے پاؤں زمین کی سختی اور نرمی کو محسوس نہیں کیا، اور جس نے کبھی آسمان سے گرتے ہوئے پانی کو اپنے بدن پر براہِ راست قبول نہیں کیا، اس نے دراصل زندگی کا پہلا سبق ہی نہیں پڑھا۔ وہ کیا جانے کہ جب آسمان سے بادلوں کے چھما چھم موتی برستے ہیں اور گرمی دانوں سے بھرے ہوئے بدن کو اپنی ساری ٹھنڈک پر رکھ دیتے ہیں، تو روح کے نہاں خانوں میں کیسی گدگدی ہوتی ہے! یہ وہ لذت ہے جسے دنیا کی کوئی مہنگی سے مہنگی دوا یا آسائش فراہم ...

احساس اور الفاظ کا فاصلہ

کبھی کبھی ہم اپنی پوری روح نچوڑ کر کاغذ پر بکھیر دیتے ہیں، مگر پڑھنے والا اسے محض چند سطروں کی صورت میں دیکھتا ہے۔ ہم ایک جملے کے پیچھے برسوں کی مسافت، جاگی ہوئی کئی راتیں اور بے شمار اَن کہے دکھ چھپا دیتے ہیں، لیکن قاری کے لیے وہ صرف لغت کے چند الفاظ ہوتے ہیں۔ دراصل، لکھنے والا اپنے احساس کو لفظ کا لباس پہناتا ہے، جبکہ پڑھنے والا صرف اس لباس کو دیکھ پاتا ہے، اس کے اندر تڑپتی ہوئی کیفیت تک رسائی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ تحریر اور تفہیم کے درمیان یہ خلیج ہمیشہ قائم رہی ہے۔ جب ہم غم لکھتے ہیں، تو ہم اس کرب کو دوبارہ جی رہے ہوتے ہیں جس نے ہمیں یہ لکھنے پر مجبور کیا، لیکن پڑھنے والا اسے اپنی سہولت اور اپنے ظرف کے مطابق سمجھتا ہے۔ وہ لفظ تو پڑھ لیتا ہے، مگر ان لفظوں کے درمیان جو سسکیاں اور جو خالی جگہیں ہوتی ہیں، وہ اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ ہر پڑھنے والا اپنی زندگی کے تجربات کی عینک سے دوسرے کی تحریر کو دیکھتا ہے۔ جس نے کبھی تپتی دھوپ کا سفر نہ کیا ہو، وہ سایے کی قدر کیسے جان سکتا ہے؟ اسی لیے، لکھی ہوئی بات صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس کا دل لکھنے والے کے دل کے ساتھ دھڑک رہا ہو، ورنہ ب...

بارود کی راکھ میں دبی عید اور امید کی کونپل

      رمضان بیت گیا، عید گزر گئی اور فضاؤں میں اب بھی وہ سحر انگیز خوشبو باقی ہے جو صرف عبادت کی تھکن اور صلے کی مٹھاس سے کشید کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس بار کی عید، ماضی کی عیدوں سے ذرا مختلف تھی۔ دسترخوان پر سجی سویاں وہی تھیں، بچوں کے کرتوں پر لگی کلف کی کڑک بھی ویسی تھی، اور عید گاہوں سے اٹھنے والا اللہ اکبر کا غلغلہ بھی ویسا ہی تھا، مگر دل کے کسی نہاں خانے میں ایک عجیب سی کسک، ایک اَن کہی بے چینی اور ایک ہمدردانہ ٹیس سی لگی ہوئی تھی۔ شاید اس لیے کہ جب ہم اپنے پیاروں کے گلے مل رہے تھے، تو عین اسی وقت دنیا کے ایک نقشے پر مائیں اپنے بچوں کی میتوں سے لپٹ کر وداعی بوسے دے رہی تھیں ۔ رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں صبر سکھاتا ہے، لیکن اس بار کا صبر صرف بھوک اور پیاس تک محدود نہ تھا، بلکہ یہ اس تماشائے اہل کرم کو دیکھنے کا صبر تھا جو سرحدوں کے پار انسانیت کا لہو بہتے دیکھ کر بھی خاموش تماشائی بنے رہے۔ عید کا چاند نظر آیا تو خوشی کے ساتھ ایک سوال بھی لایا کہ کیا یہ خوشی صرف ان کے لیے ہے جن کے گھر سلامت ہیں؟ یا ان کے لیے بھی جن کے گھروں کی چھتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور جن ک...

امید کی کرن

رمضان کی سحر سوزی رخصت ہوئی اور عید کی شیرینی بھی اب یادوں کا حصہ بن چکی ہے۔ دسترخوانوں سے برکتوں کے ذائقے سمٹ کر اب دل کے نہاں خانوں میں عبادت کا نور بن کر ٹھہر گئے ہیں۔ بظاہر فضاؤں میں اب بھی بارود کی بو باقی ہے، افق پر جنگ کے مہیب سائے اب بھی کسی زخمی پرندے کی طرح منڈلا رہے ہیں، لیکن ان کالی گھٹاؤں کے بیچوں بیچ امیدکی ایک ننھی سی کرن نے سر نکالا ہے۔ یہ کرن بالکل ویسی ہی ہے جیسے بنجر زمین کے سینے کو چیر کر ایک سبز کونپل جھانکتی ہے، جسے نہ تو تپتی دھوپ کا ڈر ہوتا ہے اور نہ ہی گردِ راہ کا خوف۔ جنگیں تو ہمیشہ سے انسان کی ہوس اور انا کی پیداوار رہی ہیں، لیکن محبت وہ ازلی حقیقت ہے جو خاموشی سے دلوں کے تار جوڑتی رہتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نفرت کے اس قدیم کھیل سے تھک کر اس نور کی سمت قدم بڑھائیں جو صلح اور آشتی کا پتا دے رہا ہے۔ عید کے گزرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ خوشی کا جواز ختم ہو گیا، بلکہ اب تو اس مٹھاس کو ان تلخ گوشوں تک پہنچانے کا وقت ہے جہاں سسکیاں آج بھی گونجتی ہیں۔ آئیے، اس مدھم سی کرن کو اپنے یقین کی تپش دیں تاکہ یہ سورج بن کر چمکے۔ نفرت کے بادل کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، محب...

خالص پن کا نوحہ

 

چھوٹا آدمی ۔ بڑا آدمی

  کائنات کا سب سے بڑا سچ یہ نہیں کہ ہم سب ایک جیسے ہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ چھوٹا آدمی وہ ہے جو کائنات کے اس تنوع سے خوفزدہ رہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر رنگ اس کے اپنے رنگ میں رنگ جائے، ہر عقیدہ اس کے اپنے عقیدے کا عکس بن جائے اور ہر زبان وہی بولے جو اسے سنائی دیتی ہے۔ وہ دوسروں کے تضادات کو "نقص" سمجھتا ہے اور ان کی انفرادیت کو اپنے وجود کے لیے خطرہ جانتا ہے۔ اس کی دنیا اس کی اپنی انا کی تنگ گلیوں تک محدود ہوتی ہے، جہاں دوسرے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ لیکن بڑا آدمی وہ ہے جس کا دل کسی کشادہ صحرا یا وسیع سمندر کی مانند ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر درختوں کے پتے ایک جیسے نہیں ہوتے، تو انسانوں کے خیالات ایک کیسے ہو سکتے ہیں؟ وہ اپنے مسلک کے مصلے پر کھڑا ہو کر دوسروں کے اعتقادات کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وہ اپنے کلچر کی ردا اوڑھے ہوئے دوسروں کے لباس، زبان اور لہجے کے فرق کو نفرت کی بنیاد نہیں، بلکہ پہچان کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ بڑا انسان وہ ہے جو تضاد کو قبول کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ جو جانتا ہو کہ زندگی کی اصل خوبصورتی ان ہی مختلف رنگوں کے باہم مل...

آسانیاں

ہم اکثر سکون کو کسی غیبی دستک یا خوش قسمتی کے ستارے سے منسوب کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگی کی تمام تر آسانیاں دراصل ان فیصلوں کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں جنہیں ہم نے کبھی غیر ضروری سمجھ کر ٹال دیا تھا۔ آسانی کوئی ایسی شے نہیں جو چل کر ہمارے پاس آئے، یہ تو وہ راستہ ہے جسے ہم خود اپنے ارادوں کے تیشے سے تراشتے ہیں۔ ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم مشکل حالات میں آسان فیصلے ڈھونڈتے ہیں۔ یاد رکھیں، کڑوا فیصلہ ہی میٹھے نتائج کا ضامن ہوتا ہے۔ جب ہم کسی زہریلے تعلق، کسی بے کار عادت یا کسی نامکمل خواب کو ادھورا چھوڑنے کا حوصلہ کر لیتے ہیں، تو وہیں سے آسانی کی پہلی کرن پھوٹتی ہے۔ ہم نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر دراصل اپنی باگ ڈور دوسروں کے ہاتھ میں دے دی ہوتی ہے۔ آسانی کا مطلب مسائل کا نہ ہونا نہیں، بلکہ ان کا سامنا کرنے کے لیے ایک واضح انتخاب کرنا ہے۔ کبھی کبھی نا کہہ دینا برسوں کی ذہنی الجھن سے بچا لیتا ہے، اور کبھی خاموشی کا انتخاب شور زدہ ماحول میں راحت کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ سب ہمارا اپنا انتخاب ہیں۔ #نوریات

سفرہی زندگی ہے

سفر کی سچائی قدموں کی تھکن میں نہیں، بلکہ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں چھپی ہوتی ہے جو ہمارے اندر جنم لیتا ہے۔ ہم منزل کو مرکزِ نگاہ بنا لیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ پاؤں تلے کچلی جانے والی مٹی، راستے میں ملنے والے اجنبی چہرے اور وہ پگڈنڈیاں جو اچانک ختم ہو گئیں، دراصل ہمیں نئے سرے سے تخلیق کر رہی تھیں۔ جس طرح دریا کا مقصد صرف سمندر میں گرنا نہیں، بلکہ اپنے وجود میں بننے والی لہروں، اٹھنے والے تھپیڑوں اور کنارے کی ریت سے مکالمہ کرنا ہے، اسی طرح انسانی جستجو بھی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ اگر آپ منزل تک نہیں پہنچ جائے تو بھی سفر ضائع نہیں ہوا۔ منزل تک نہ پہنچنا بھی دراصل ایک خاموش اشارہ ہے کہ آپ کا ظرف ابھی کچھ اور ان کہی سچائیوں کا منتظر ہے۔ راستہ جب اپنی طوالت سے ہمیں تھکاتا ہے، تو وہ دراصل ہماری انا کے فالتو بوجھ کو جھاڑ رہا ہوتا ہے۔ ہم جب گھر سے نکلتے ہیں تو کوئی اور ہوتے ہیں، اور جب کسی ناکام موڑ پر رکتے ہیں، تو ہماری آنکھوں میں وہ چمک ہوتی ہے جو صرف وہی پا سکتا ہے جس نے دھوپ اور دھول سے دوستی کی ہو۔ کون کہتا ہے کہ حاصل ہی سب کچھ ہے؟ کبھی کبھی نارسائی ہی ہمیں بے کراں وسعتوں سے آشنا...

ادھورا پن

یہی جانا ہے سانسوں کےسفر میں کہ کوئی راستہ بے سود کب ہے؟ رسائی ہو نہ ہو، لیکن تھکن بھی ہمیں جینے کا فن سکھلا رہی ہے مسافت در مسافت جستجو ہے کتابِ زیست کے ہر اک ورق پر نیا اک رنگ بھرتی جا رہی ہے ادھورا پن ہی شاید زندگی ہے! #نوریات

گنے کے رس سے سوڈا واٹر تک

  پنجاب کے دیہی و شہری معاشرت میں ہونے والے تغیرات کی کہانی محض چند برسوں کا قصہ نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کے ڈھلنے اور دوسری کے ابھرنے کی داستان ہے۔ ایک وہ دور تھا جب اس خطے کی پہچان مادیت پرستی نہیں بلکہ وہ خالص پن تھا جو یہاں کے رسم و رواج، خوراک اور باہمی تعلقات سے چھلکتا تھا۔ اس زمانے میں بناسپتی گھی یا ڈالڈا کا گھر میں آنا ایک معیوب بات سمجھی جاتی تھی۔ شادی بیاہ کے مواقع پر اگر کسی میزبان نے غلطی سے بھی ڈالڈا گھی کے پکوان پیش کر دیے تو یہ بات پورے علاقے میں تذکرے کا باعث بنتی اور بعض من چلے تو اسے اپنی توہین سمجھتے ہوئے کھانے کا بائیکاٹ کر کے اٹھ جاتے۔ دیسی گھی اس وقت محض چکنائی کا ذریعہ نہیں بلکہ خاندان کی عزت، تمکنت اور اعلیٰ سماجی مرتبے کی علامت تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس خالص پن پر جدیدیت کے سائے لہرانے لگے۔ پہلے پنجاب کا سب سے بہترین اور مقبول ترین مشروب گنے کا تازہ رس ہوتا تھا۔ دیہاتوں میں جب گنے کی کٹائی کا سیزن شروع ہوتا تو کھیتوں کے قریب نصب ویلنے (گنا پیلنے والی مشین) ایک سماجی مرکز کی حیثیت اختیار کر لیتے تھے۔ بیلوں کی جوڑی جب ایک مخصوص تال کے ساتھ دائروں میں گھومتی ا...

افریقی ڈھول

  کائنات کی پہلی آواز کیا تھی؟ شاید کسی ستارے کے ٹوٹنے کی گونج، یا پہلی بارش کے قطرے کی زمین سے ہم آغوشی۔ مگر انسانی تہذیب کی پہلی آواز یقیناً دھڑکنا تھی۔ ماں کے پیٹ میں بچے نے موسیقی کا پہلا سبق اس کے دل کی دھڑکن سے سیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان نے ہوش سنبھالا، تو اس نے کائنات کے اس تال ( Rhythm ) کو نقل کرنے کی کوشش کی۔ کہیں بانس کی پوروں میں سوراخ کر کے ہوا کو قید کیا گیا، تو کہیں لکڑی کے کھوکھلے تنے پر جانور کی کھال منڈھ کر ایک ایسی صدا پیدا کی گئی جس نے صدیوں تک انسانی روح کو تڑپائے رکھا۔ موسیقی محض سروں کا مجموعہ نہیں ہے، یہ کسی بھی قوم کا وہ شناختی کارڈ ہے جو لفظوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ آپ جاپان کے کوتو ( Koto ) کی تاروں کو چھیڑیں تو آپ کو وہاں کی برف پوش چوٹیوں کی خاموشی محسوس ہوگی۔ آپ سپین کے فلیمنگو گٹار کی تپش سنیں تو اندلس کی تاریخ کا جلال اور جمال آنکھوں میں رقص کرنے لگے گا۔ لیکن صاحب! اگر آپ نے زندگی کے اصل جوہر، اس کی کچی سچائی اور کائنات کی قدیم ترین نبض کو محسوس کرنا ہے، تو کبھی افریقہ کے جنگلوں، صحراؤں اور بستیوں سے اٹھنے والے ان ڈھولوں کی آواز سنیں، جو زمین...

عکس کے قیدی

 

کتنی نیند ضروری ہے؟

 

آدھا سچ اور پوری اذیت

  آدھا سچ اور پوری اذیت ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں سچ بولنا اتنا مشکل نہیں رہا، جتنا سچ سننا مہنگا ہو گیا ہے۔ ہم نے اپنی سہولت کے لیے سچ کے بھی حصے کر لیے ہیں۔ ایک وہ جو ہمیں سکون دیتا ہے، اور ایک وہ جو ہمیں آئینہ دکھاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے 'آئینہ دکھانے والے سچ' کو بدتمیزی کا نام دے دیا ہے اور 'خوش کن جھوٹ' کو مصلحت کا لبادہ پہنا دیا ہے۔ کبھی سوچئیے گا کہ جب ہم کسی کی تعریف کرتے ہیں تو کیا وہ واقعی اس کی خوبی ہوتی ہے یا ہماری اپنی کسی ضرورت کا پیش خیمہ؟ ہم لفظوں کے سوداگر بن چکے ہیں، جو صرف وہ مال بیچتے ہیں جس کی بازار میں مانگ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اب تحریروں میں جان اور لہجوں میں تاثیر ختم ہو گئی ہے۔ ہم مٹی کے وہ برتن بن گئے ہیں جو باہر سے تو چمکدار ہیں مگر اندر سے خالی، اور خالی برتنوں کا شور ہی ہماری پہچان بن چکا ہے۔ کیا ہم کبھی اس خالی پن کو بھرنے کی جرات کر پائیں گے، یا صرف گونج بن کر رہ جائیں گے؟

عکس کا قیدی اور خالی آئینے

 عکس کا قیدی اور خالی آئینے انسانی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ ہم نے خود کو دریافت کرنے کے بجائے خود کو ایجاد کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم ایک ایسی بستی کے باسی بن چکے ہیں جہاں ہر شخص اپنے ہاتھ میں ایک آئینہ لیے کھڑا ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ وہ اس آئینے میں اپنا عکس نہیں دیکھ رہا، بلکہ یہ دیکھ رہا ہے کہ دوسرے اس کے آئینے میں کیا دیکھ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جس نے ہمارے سماجی ڈھانچے اور انفرادی سکون کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ بچپن میں ہم سب نے وہ کہانی سنی تھی کہ ایک بادشاہ کے پاس ایسا لباس تھا جو صرف اس کے وزیروں اور مشیروں کو نظر آتا تھا۔ آج ہم سب اسی بادشاہ کی طرح ڈیجیٹل اور سماجی ساکھ کا وہ نادیدہ لباس پہن کر گھوم رہے ہیں جو درحقیقت موجود ہی نہیں، مگر ہم اس کے معیار اور استر پر دن رات بحث کرتے ہیں۔ ہم نے اپنی زندگی کو ایک کینوس سمجھنے کے بجائے ایک شو کیس سمجھ لیا ہے۔ سماجی تضاد کا سب سے بڑا مظہر یہ ہے کہ ہماری محفلیں اب مکالمے کے لیے نہیں بلکہ منظر کشی کے لیے سجتی ہیں۔ دسترخوان پر رکھا ہوا کھانا اب پیٹ کی بھوک مٹانے سے پہلے کیمرے کی آنکھ کی پیاس بجھاتا ہے۔ ہم ذائقے سے مح...