شہر کی آخری حد پر بنے اس پرانے مکان کی چھت سے جب سورج ڈھلتا تھا، تو دیواروں پر پڑنے والے سائے کسی نوحے کی طرح طویل ہو جاتے تھے۔ زویا نے کھڑکی کے پٹ بند کیے تو لکڑی کی چرچراہٹ نے کمرے کے سناٹے میں ایک لرزہ پیدا کر دیا۔ باہر سڑک پر ٹریفک کا شور مدھم پڑ چکا تھا، مگر اس کے اندر کی دنیا میں ایک ایسی خاموشی تھی جو کسی بھی شور سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے۔ میز پر رکھے تانبے کے گلدان میں مرجھائے ہوئے پھول اپنی آخری خوشبو چھوڑ چکے تھے۔ زویا نے ان کی پتیوں کو چھوا۔ وہ خشک ہو کر جھڑ رہی تھیں۔ اسے لگا وہ خود بھی ان پتیوں جیسی ہے، جو شاخ سے ٹوٹنے کے بعد زمین کی مٹی ہونے کا انتظار کر رہی ہیں۔ لیکن نہیں، مٹی ہونا تو تسلیمِ خم ہے، اور وہ ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی تھی۔ تین سال پہلے جب وہ اس گھر میں آئی تھی، تو وہ موم جیسی تھی۔ اتنی نرم کہ سامنے والے کی ایک آہ پر پگھل جاتی۔ وہ حارث کی خوشی کے سانچے میں خود کو ڈھالنے کے فن سے واقف تھی۔ حارث کو چائے میں چینی کم پسند تھی، تو زویا نے اپنی زندگی سے مٹھاس کم کر دی۔ اسے اونچی آواز ناپسند تھی، تو زویا نے اپنی ہنسی کو سرگوشیوں میں بدل لیا۔ یہ اس کی کمزوری نہیں تھی...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی