اسلام آباد کی سرد و گرم دوپہروں میں،
جب سورج کی شعاعیں سرکاری دفاتر کی گرد آلود کھڑکیوں سے چھن کر اندر آتی ہیں، تو
وہ اکثر ان کاغذوں کے پلندے پر پڑتی ہیں جنہیں ہم فائل کہتے ہیں۔ باہر کی دنیا میں
زندگی اپنے پورے شور و ہنگامے کے ساتھ رواں اداں ہوتی ہے، مگر ان دفتروں کی الماریوں
میں ایک عجیب سی خاموشی دفن ہوتی ہے۔ یہ خاموشی کاغذوں کی نہیں ہے، یہ ان خوابوں کی
سسکیاں ہیں جو برسوں سے ایک دستخط کے منتظر ہیں۔
عام آدمی کے لیے فائل محض کاغذوں کا ایک پلندہ، ایک ہندسہ یا ایک بے جان اندراج ہوتی ہے۔ مگر کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ان پیلے پڑتے کاغذوں کے پیچھے گوشت پوست کے جیتے جاگتے انسان چھپے ہوتے ہیں؟ کسی فائل کے اندر ایک بیوہ کے وظیفے کا سوال ہوتا ہے جس سے اس کے چولہے کی آگ وابستہ ہوتی ہے۔ کسی بستے میں ایک نوجوان کی ملازمت کا پروانہ دبا ہوتا ہے جس پر پورے خاندان کی خوشیوں کا دارومدار ہوتا ہے۔ کسی معائنے میں ایک دیانتدار اہلکار کی ترقی کا معاملہ ہوتا ہے جو تیس سال کی خدمت کے بعد صرف ایک جائز حق کا طالب ہوتا ہے۔
ہم جب کسی فائل پر اعتراض لگا کر اسے ایک میز سے دوسری میز پر منتقل کرتے ہیں، تو دراصل ہم ایک انسان کی امید کو دھکا دیتے ہیں۔ وہ فائل جسے ہم ایک معاملہ کہتے ہیں، حقیقت میں ایک جیتی جاگتی کہانی ہوتی ہے۔ جب ایک منشی یا افسر سستی کی بنیاد پر یا محض اپنی انا کی تسکین کے لیے کسی فائل کو دراز میں ڈال کر بھول جاتا ہے، تو وہ صرف کاغذ نہیں روک رہا ہوتا، بلکہ وہ کسی کا وقت، کسی کی خوشی اور کسی کا مستقبل قید کر رہا ہوتا ہے۔
ہمارے نظام کی سب سے بڑی المیہ یہ ہے کہ ہم نے ضابطوں/رولز کو مقصد بنا لیا ہے، حالانکہ ضابطے تو انسانوں کی سہولت کے لیے بنے تھے۔ آج کا انتظامی ڈھانچہ ایک ایسی مشین بن چکا ہے جس میں جذبات کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ہم فائل کے عنوان کو تو دیکھتے ہیں مگر اس کے درد کو محسوس نہیں کرتے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جس فائل کو ہم پچھلے چھ ماہ سے زیرِ غور کہہ رہے ہیں، اس کے انتظار میں کسی بوڑھے باپ کی آنکھیں کتنی بار پتھرائی ہوں گی؟
کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ یہ فائلیں قبرستان کے کتبوں کی طرح ہیں۔ کتبہ بتاتا ہے کہ یہاں کوئی دفن ہے، اور فائل بتاتی ہے کہ یہاں کسی کا حق دفن ہے۔ جب نظام میں انسان منہا ہو جائے اور صرف قاعدہ باقی رہ جائے، تو معاشرہ بنجر ہو جاتا ہے۔ ہم نے فائلوں کی ترتیب تو سیکھ لی، مگر کیا ہم نے ان سائلوں کے چہروں کی تحریر پڑھنا سیکھی جو کچہریوں اور دفتروں کے باہر سارا دن اس امید پر بیٹھے رہتے ہیں کہ شاید آج صاحب کے قلم سے ان کی زندگی کا اندھیرا چھٹ جائے؟
یہاں ایک اور پہلو بھی ہے جو نہایت تکلیف دہ ہے۔ ان فائلوں کے ڈھیر میں صرف سائل کی امیدیں ہی نہیں دبتیں، بلکہ ایک مخلص کارکن کا جوش اور جذبہ بھی دم توڑ دیتا ہے۔ جب ایک فرض شناس انسان کسی بہتری کی تجویز لکھ کر اوپر بھیجتا ہے اور وہ تجویز مہینوں تک گرد چاٹتی رہتی ہے، تو وہ شخص بھی رفتہ رفتہ اسی بے حس نظام کا حصہ بن جاتا ہے۔ یوں یہ فائلیں نہ صرف باہر والوں کے لیے دیوار بنتی ہیں، بلکہ اندر بیٹھے لوگوں کے تخلیقی وجود کو بھی دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہیں۔ نظام کی اس سرد مہری نے کتنے ہی باصلاحیت ذہنوں کو محض فائلوں کا پیٹ بھرنے والی مشین بنا کر رکھ دیا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس مشینی نظام میں انسان کو دوبارہ واپس لا سکتے ہیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک فائل کو محض ایک ہندسے کے بجائے ایک خواب کے طور پر دیکھا جائے؟ اس کا جواب کسی قانون کی تبدیلی میں نہیں، بلکہ رویوں کی تبدیلی میں پنہاں ہے۔ جس دن ایک افسر یہ سوچ کر فائل کھولے گا کہ اس کے ایک دستخط سے کسی کے گھر کی چھت مرمت ہو سکتی ہے یا کسی بچے کی تعلیمی فیس ادا ہو سکتی ہے، اسی دن نظام میں روح پھونک دی جائے گی۔
ہمیں اپنے نظام میں دردِ مندی کو ایک لازمی جزو کے طور پر شامل کرنا ہوگا۔ سرکاری کرسی پر بیٹھے شخص کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ وقت کا امین ہے، اور اس کا قلم صرف سیاہی نہیں اگلتا بلکہ تقدیریں لکھتا ہے۔ نظام میں اصلاحات کا مطلب صرف کمپیوٹر لگانا نہیں ہے، بلکہ اس سوچ کی تبدیلی ہے جو انسان کو ایک حوالہ نمبر سمجھتی ہے۔
آج جب میں اپنے دفتر کی میز پر پڑی فائلوں کو دیکھتا ہوں، تو مجھے ان میں سے انسانی سانسوں کی خوشبو آتی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ کاغذ مجھ سے کلام کر رہے ہیں۔ کوئی فائل کہتی ہے کہ میرا سائل تھک چکا ہے، کوئی پکارتی ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف کا قتل ہے۔
کاش کہ ہم سب، جو اس نظام کا حصہ ہیں، یہ سمجھ سکیں کہ کل جب ہم سبکدوش ہو کر اسی قطار کے دوسری طرف کھڑے ہوں گے، تو ہمیں بھی وہی درد محسوس ہوگا جو آج ہم دوسروں کو دے رہے ہیں۔ آئیے، ان فائلوں سے خوابوں کو رہا کریں۔ آئیے، کاغذوں کے اس ڈھیر میں دبے ہوئے انسان کو تلاش کریں اور اسے اس کا جائز مقام دیں۔ کیونکہ آخر میں جو چیز باقی رہے گی، وہ آپ کے عہدے کی شان و شوکت نہیں، بلکہ وہ دعا ہوگی جو کسی مجبور کے دل سے اس وقت نکلی تھی جب آپ کے ایک دستخط نے اس کی اداس زندگی میں رنگ بھر دیے تھے۔
اگر ہم اپنے نظام میں احساس پیدا نہ کر سکے، تو یہ عالیشان عمارتیں اور قیمتی فائلیں محض ایک بے جان یادگار بن کر رہ جائیں گی۔ کیا ہم تیار ہیں کہ اپنے قلم کو ایک مسیحا کی طاقت دیں؟ یہ سوال آج ہر اس شخص کے لیے ہے جس کی میز پر کوئی فائل پڑی ہوئی ہے۔
Comments
Post a Comment