Skip to main content

باوقار موت

 انسانی عظمت کا سفر ہمیشہ سے تلاطم خیز موجوں کے خلاف سینہ سپر ہونے کا نام رہا ہے۔ اس کائناتِ رنگ و بو میں، جہاں مصلحتوں کے سائے قدم قدم پر ضمیر کی روشنی چھیننے کے درپے ہوتے ہیں، وہاں دنیاوی طاقتوں کے جاہ و جلال کے سامنے سر بلند رکھنا ہی وہ جوہرِ نایاب ہے جو مٹی کے پتلےکو لازوال بنا دیتا ہے۔

زندگی محض سانسوں کے تسلسل کا نام نہیں، بلکہ یہ ان اقدار کی پاسبانی ہے جن پر سمجھوتہ کرنا روح کی موت کے مترادف ہے۔ جب وقت کے فرعون اپنی مصنوعی طاقت کے زعم میں انسانیت کو جھکانے کی کوشش کرتے ہیں، تو ایک غیرت مند انسان ان کے آہنی شکنجوں میں بھی اپنے ماتھے پر شکست کی شکن نہیں آنے دیتا۔ دنیاوی طاقتیں عارضی ہیںچاہے وہ زر و زمین کا جادو ہو یا تخت و تاج کا رعب ۔۔ یہ سب ڈھلتی چھاؤں کی مانند ہیں۔ اصل حکمرانی اس قلبِ مومن کی ہے جو حق کی صداقت پر یقین رکھتا ہے اور مصلحت پسندی کے بازار میں اپنی انا کا سودا نہیں کرتا۔
عزت کے ساتھ جینا ایک کٹھن راستہ ہے، مگر اسی وقار کے ساتھ موت کو گلے لگانا انسانی عظمت کی معراج ہے۔ موت تو ہر ذی روح کا مقدر ہے، لیکن وہ موت جو سر جھکا کر زندگی کی بھیک مانگنے کے بجائے، سچائی کی راہ میں سر کٹانے سے عبارت ہو، وہی زندگی کو معنی عطا کرتی ہے۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ فاتح وہ نہیں کہلائے جنہوں نے میدان جیتے، بلکہ وہ جاویداں ہوئے جنہوں نے مقتل میں بھی مسکرا کر موت کا استقبال کیا اور اپنے لہو سے غیرت و حمیت کی نئی داستانیں رقم کیں۔
دنیاوی جاہ و حشمت کے مقابل استقامت دکھانا دراصل خود کو پہچاننے کا عمل ہے۔ جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ اس کا وقار کسی زمینی طاقت کا مرہونِ منت نہیں، تو وہ موت کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فانی انسان اپنی خودی کے بل بوتے پر لافانی ہو جاتا ہے۔ ایک باوقار موت، ہزار سالہ ذلت آمیز زندگی سے کہیں زیادہ پرشکوہ اور معتبر ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر