Skip to main content

آسانیاں


ہم اکثر سکون کو کسی غیبی دستک یا خوش قسمتی کے ستارے سے منسوب کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگی کی تمام تر آسانیاں دراصل ان فیصلوں کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں جنہیں ہم نے کبھی غیر ضروری سمجھ کر ٹال دیا تھا۔ آسانی کوئی ایسی شے نہیں جو چل کر ہمارے پاس آئے، یہ تو وہ راستہ ہے جسے ہم خود اپنے ارادوں کے تیشے سے تراشتے ہیں۔
ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم مشکل حالات میں آسان فیصلے ڈھونڈتے ہیں۔ یاد رکھیں، کڑوا فیصلہ ہی میٹھے نتائج کا ضامن ہوتا ہے۔ جب ہم کسی زہریلے تعلق، کسی بے کار عادت یا کسی نامکمل خواب کو ادھورا چھوڑنے کا حوصلہ کر لیتے ہیں، تو وہیں سے آسانی کی پہلی کرن پھوٹتی ہے۔ ہم نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر دراصل اپنی باگ ڈور دوسروں کے ہاتھ میں دے دی ہوتی ہے۔
آسانی کا مطلب مسائل کا نہ ہونا نہیں، بلکہ ان کا سامنا کرنے کے لیے ایک واضح انتخاب کرنا ہے۔ کبھی کبھی نا کہہ دینا برسوں کی ذہنی الجھن سے بچا لیتا ہے، اور کبھی خاموشی کا انتخاب شور زدہ ماحول میں راحت کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ سب ہمارا اپنا انتخاب ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ