پنجاب کے دیہی و شہری معاشرت میں ہونے والے تغیرات کی کہانی محض چند برسوں کا قصہ نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کے ڈھلنے اور دوسری کے ابھرنے کی داستان ہے۔ ایک وہ دور تھا جب اس خطے کی پہچان مادیت پرستی نہیں بلکہ وہ خالص پن تھا جو یہاں کے رسم و رواج، خوراک اور باہمی تعلقات سے چھلکتا تھا۔ اس زمانے میں بناسپتی گھی یا ڈالڈا کا گھر میں آنا ایک معیوب بات سمجھی جاتی تھی۔ شادی بیاہ کے مواقع پر اگر کسی میزبان نے غلطی سے بھی ڈالڈا گھی کے پکوان پیش کر دیے تو یہ بات پورے علاقے میں تذکرے کا باعث بنتی اور بعض من چلے تو اسے اپنی توہین سمجھتے ہوئے کھانے کا بائیکاٹ کر کے اٹھ جاتے۔ دیسی گھی اس وقت محض چکنائی کا ذریعہ نہیں بلکہ خاندان کی عزت، تمکنت اور اعلیٰ سماجی مرتبے کی علامت تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس خالص پن پر جدیدیت کے سائے لہرانے لگے۔ پہلے پنجاب کا سب سے بہترین اور مقبول ترین مشروب گنے کا تازہ رس ہوتا تھا۔ دیہاتوں میں جب گنے کی کٹائی کا سیزن شروع ہوتا تو کھیتوں کے قریب نصب ویلنے (گنا پیلنے والی مشین) ایک سماجی مرکز کی حیثیت اختیار کر لیتے تھے۔ بیلوں کی جوڑی جب ایک مخصوص تال کے ساتھ دائروں میں گھومتی اور لکڑی کے بڑے بڑے شہتیروں کی چرچراہٹ سے گنے کا رس نکلنا شروع ہوتا، تو اس کی سوندھی خوشبو پورے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ اساتذہ اکثر اپنے شاگردوں کو چرویاں یا گاگریں(مٹی یا دھات کے بڑے برتن) دے کر ویلنے کی طرف روانہ کرتے، جہاں رس نکالنے والے فراخ دل زمیندار ان برتنوں کو رس سے لبالب بھر دیتے۔ یہ رس اکثر مفت ملتا تھا، کیونکہ اس وقت مہمان نوازی اور فی سبیل اللہ بانٹنے کا جذبہ کاروباری سوچ پر غالب تھا۔ گنے کا یہ رس اور گھر کی میٹھی لسی مہمانوں کی تواضع کا لازمی حصہ تھے۔ اگر کبھی بہت زیادہ تکلف مقصود ہوتا تو شیشے کی نفیس بوتلوں میں موجود روح افزا نکالا جاتا، جس کا رنگ اور ذائقہ دسترخوان کی رونق بڑھا دیتا۔ تاہم تب بھی خالص دودھ کے بڑے گلاس پیش کرنا ہی عزت
افزائی کی معراج سمجھا جاتا تھا۔
پھر زمانے نے پلٹا کھایا اور روایتی مشروبات کی جگہ کالی اور رنگین بوتلوں نے لے لی۔ دیکھتے ہی دیکھتے گنے کے ویلنے قصہ پارینہ بن گئے اور ان کی جگہ ہر گلی کوچے میں شکر اور مصنوعی ذائقوں سے لبریز سوڈا واٹر آ گیا۔ اب فریج کے بغیر زندگی کا تصور محال ہے، جبکہ ایک دور وہ تھا جب تپتی گرمیوں میں خربوزے اور تربوز کنویں کے ٹھنڈے پانی میں رکھ کر ٹھنڈے کیے جاتے تھے۔ شام کے سائے ڈھلتے ہی جب کنویں کی تہہ سے وہ برفیلے پھل نکالے جاتے تو ان کا ذائقہ اور ٹھنڈک مصنوعی ریفریجریشن سے کہیں زیادہ فرحت بخش ہوتی۔ اس عہد میں رات کا بچا ہوا کھانا محفوظ کرنے کا طریقہ بھی نہایت فطری تھا۔ سالن یا روٹی کو ایک مخصوص جالی دار یا کپڑے کے برتن میں رکھ کر صحن میں لگی تاروں پر لٹکا دیا جاتا تھا تاکہ رات بھر کی تازہ ہوا اسے خراب ہونے سے بچائے رکھے۔ آج کی مشینی زندگی نے ان تمام لطافتوں کو برقی ڈبوں میں مقید کر دیا ہے، جہاں اشیاء ٹھنڈی تو رہتی ہیں مگر ان کا وہ اصلی ذائقہ کہیں مفقود ہو جاتا ہے۔
پنجاب کے باورچی خانوں کی زینت مٹی کے برتن ہوا کرتے تھے، جبکہ دھاتی برتنوں میں تانبے اور پیتل کا راج تھا۔ تانبے کی دیگچیاں اور پیتل کے تھال نہ صرف پائیداری میں بے مثال تھے بلکہ طبی نقطہ نظر سے بھی انسانی صحت کے لیے اکسیر سمجھے جاتے تھے۔ روٹی رکھنے کے لیے پلاسٹک کے ڈبوں کے بجائے کھجور کے پتوں سے بنی خوبصورت 'چنگیریں' استعمال کی جاتی تھیں، جو روٹی کو دیر تک نرم اور تازہ رکھتی تھیں۔ پھر پلاسٹک اور ایلومینیم کی یلغار ہوئی اور ان قدیم و صحت مند برتنوں کی جگہ ایسے مواد نے لے لی جو گرم خوراک کے ساتھ مل کر انسانی جسم میں زہریلے مادے منتقل کرتے ہیں۔ زراعت کا شعبہ بھی اس تبدیلی سے محفوظ نہ رہا۔ بزرگوں کے بقول، وہ زمانہ وہ تھا جب زمین کی کوکھ سے اناج کسی مصنوعی کھاد کے بغیر اگتا تھا۔ کسان آدھی روٹی اور مکھن کے پیڑے سے وہ توانائی حاصل کر لیتے تھے کہ پورا دن تپتی دھوپ میں ہل چلانے کے باوجود تھکن قریب نہ پھٹکتی تھی۔ زمین کو زہریلی ادویات اور پیسٹی سائیڈز کی لت نہیں لگی تھی، اس لیے اناج میں برکت بھی تھی اور طاقت بھی۔ آج زرعی پیداوار میں تو اضافہ ہوا ہے لیکن خوراک سے وہ تاثیر چھین لی گئی ہے جو جسم و جاں کا رشتہ مضبوط رکھتی تھی۔
صحت کے معاملے میں بھی معاشرہ خود کفیل تھا۔ گاؤں کا ایک حکیم یا طبیب، جو جڑی بوٹیوں کے خواص سے واقف ہوتا تھا، پورے علاقے کی مسیحائی کے لیے کافی تھا۔ بیماریاں خال خال ہوتی تھیں اور اکثر علاج باورچی خانے کے مصالحوں یا کھیتوں کی بوٹیوں سے ہو جاتا تھا۔ مگر جدید طب کے نام پر اب ہسپتالوں کی بھرمار ہے جہاں علامات کو دبانے پر تو زور ہے مگر مرض کی جڑ تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔ جوں جوں میڈیکل سائنس نے ترقی کا دعویٰ کیا، توں توں نئی اور پیچیدہ بیماریاں انسانی بستیوں میں ڈیرے ڈالنے لگیں۔ اسی طرح سادگی کے دور میں دانتوں کی حفاظت کے لیے نیم یا کیکر کی مسواک کا استعمال عام تھا، جس کی بدولت بڑھاپے تک دانت لوہے کی طرح مضبوط رہتے تھے۔ آج قیمتی ٹوتھ پیسٹوں اور منجنوں کے باوجود دانتوں کے ڈاکٹروں کے کلینک مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔
سماجی زندگی میں بھی بائیسکل سے موٹر سائیکل تک کا سفر محض رفتار کا سفر نہیں بلکہ سکون کی قربانی کا سفر ہے۔ سائیکل چلانا ایک خودکار ورزش تھی جو انسان کو چاق و چوبند رکھتی تھی۔ اب مشینوں کی کثرت نے انسان کو سست اور کاہل بنا دیا ہے۔ مہمان نوازی، جو کبھی قلبی خوشی کا ذریعہ تھی، اب ایک بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ وہ گھر جہاں مرغیاں، بکریاں اور بھینسیں پالی جاتی تھیں اور انڈا، گوشت و دودھ گھر کی پیداوار ہوتا تھا، اب برائلر مرغی اور مشکوک دودھ کے محتاج ہو چکے ہیں۔ دیہات کے قریب بہنے والے وہ شفاف دریا جن کے کنارے بیٹھ کر تیتروں کی بولیاں سنی جاتی تھیں اور جہاں کی مچھلی ذائقے میں بے مثال ہوتی تھی، اب صنعتی فضلے کی وجہ سے زہریلے نالوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب دیہی علاقوں میں بھی ہیپاٹائٹس اور کینسر جیسے موذی امراض جڑ پکڑ چکے ہیں۔
تعلیمی اور تربیتی نظام میں بھی زمینی روایات کے بجائے بیرونی نصاب کا غلبہ ہو چکا ہے، جس نے نئی نسل کو اپنی مٹی سے بیگانہ کر دیا ہے۔ وہ گھر جہاں بزرگوں کی ایک آواز پر تمام تنازعات حل ہو جاتے تھے، اب سوشل میڈیا کے لائکس اور کمنٹس کے رحم و کرم پر ہیں۔ خاندانی فیصلے اب بند کمروں میں نہیں بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر عوامی رائے کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ اخلاقیات کا یہ عالم ہے کہ جس معاشرے میں ماں، بہن اور بیٹی کی چادر کی حرمت پر جان دے دی جاتی تھی، وہاں اب جدت پسندی کے نام پر حیا کے تصورات دھندلا رہے ہیں۔ روشنیوں کا سیلاب تو آ گیا ہے، ہر گھر بجلی کے قمقموں سے جگمگا رہا ہے، مگر وہ لالٹین کی مدھم لو والا سکون اور اطمینان اب میسر نہیں۔ یہ سب یادیں اور گفتگو اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ہم نے ترقی کی دوڑ میں بہت کچھ حاصل تو کر لیا ہے، مگر اس کی قیمت اپنی صحت، سکون اور روایات کی صورت میں چکائی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جدیدیت کو اپنائیں ضرور، مگر اپنی اصل اور اپنے خالص پن کو قربان کر کے نہیں۔
Comments
Post a Comment