Skip to main content

پرانے درختوں کی جڑیں



ہم عموماً درختوں کو ان کے پھیلاؤ، پھلوں یا سائے سے ناپتے ہیں، لیکن ان کی اصل کائنات تو زمین کے نیچے اس تاریک خاموشی میں ہے جہاں جڑیں بستی ہیں۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ جڑیں زمین کی تہوں میں چھپی ان سب باتوں کی امین ہوں گی جنہیں ہم نے دفن کر دیا تھا؟ یہ صرف پانی کی تلاش میں زمین کا سینہ نہیں چیرتیں، بلکہ یہ مٹی کے سینے میں محفوظ قدیم انسانی تہذیبوں کی آہٹیں سنتی ہیں۔
پرانے درختوں کی جڑیں دراصل زمین کا اعصابی نظام ہی ہیں۔ جب ہم اوپر کی دنیا میں نئے شہر بساتے ہیں، پرانی دیواریں گراتے ہیں یا کوئی راز خاک برد کرتے ہیں، تو یہ جڑیں ان سب کو چھو کر گزرتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ صدیوں پہلے اس زمین پر چلنے والے کے پاؤں کی چاپ کیسی تھی اور اس نے کس دکھ میں تڑپ کر مٹی پر ہاتھ مارا تھا۔ وہ صرف لکڑی کا ریشہ نہیں، وہ وقت کی وہ ڈوریاں ہیں جنہوں نے زمین کے ماضی کو حال سے سی رکھا ہے۔
کبھی کبھی کسی قدیم برگد کے پاس بیٹھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی جڑیں خاموش نہیں ہیں، بلکہ وہ مٹی کے ذرات سے وہ کہانیاں کشید کر رہی ہیں جو ہواؤں نے بھلا دیں۔ شاید وہ ہمیں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ بقا کا راز بلندی میں نہیں، بلکہ اس جڑاؤ میں ہے جو ان کہی باتوں کو سنبھال کر رکھ سکے۔
کیا معلوم، جسے ہم محض ایک بوڑھا درخت سمجھتے ہیں، وہ زمین کی گہرائی میں موجود کسی ایسی لائبریری کا رکھوالا ہو جس کا ترجمہ ہماری جدید زبانوں میں ممکن ہی نہیں؟ کیا وہ جڑیں آپ کے قدموں کو چھو کر آپ کی وہ کہانی بھی پڑھ لیتی ہوں گی جو آپ نے ابھی تک کسی کو نہیں سنائی؟

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر