Skip to main content

امید کی کرن


رمضان کی سحر سوزی رخصت ہوئی اور عید کی شیرینی بھی اب یادوں کا حصہ بن چکی ہے۔ دسترخوانوں سے برکتوں کے ذائقے سمٹ کر اب دل کے نہاں خانوں میں عبادت کا نور بن کر ٹھہر گئے ہیں۔ بظاہر فضاؤں میں اب بھی بارود کی بو باقی ہے، افق پر جنگ کے مہیب سائے اب بھی کسی زخمی پرندے کی طرح منڈلا رہے ہیں، لیکن ان کالی گھٹاؤں کے بیچوں بیچ امیدکی ایک ننھی سی کرن نے سر نکالا ہے۔
یہ کرن بالکل ویسی ہی ہے جیسے بنجر زمین کے سینے کو چیر کر ایک سبز کونپل جھانکتی ہے، جسے نہ تو تپتی دھوپ کا ڈر ہوتا ہے اور نہ ہی گردِ راہ کا خوف۔
جنگیں تو ہمیشہ سے انسان کی ہوس اور انا کی پیداوار رہی ہیں، لیکن محبت وہ ازلی حقیقت ہے جو خاموشی سے دلوں کے تار جوڑتی رہتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نفرت کے اس قدیم کھیل سے تھک کر اس نور کی سمت قدم بڑھائیں جو صلح اور آشتی کا پتا دے رہا ہے۔ عید کے گزرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ خوشی کا جواز ختم ہو گیا، بلکہ اب تو اس مٹھاس کو ان تلخ گوشوں تک پہنچانے کا وقت ہے جہاں سسکیاں آج بھی گونجتی ہیں۔
آئیے، اس مدھم سی کرن کو اپنے یقین کی تپش دیں تاکہ یہ سورج بن کر چمکے۔ نفرت کے بادل کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، محبت کا ایک چراغ پوری کائنات کے اندھیرے کو چیلنج کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ سنا ہے کہ جب انسانیت کی آنکھ میں سچی امید کا آنسو چمکتا ہے، تو تقدیر کے فیصلے بھی بدل جایا کرتے ہیں۔
امید کی یہ کرن ہمیں پکار رہی ہے کہ اب تلواروں کو پگھلا کر امن کے ہل بنائے جائیں اور بارود کی راکھ میں محبت کے بیج بوئے جائیں۔ منزل دور سہی، مگر عزمِ جواں ہو تو راستہ خود پاؤں چومنے لگتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر