Skip to main content

شہر کی ٹریفک اور ہماری انا

روز جب ماہ رمضان میں شام کو  سورج  مغرب میں غروب ہونے کا ارادہ کرتا ہے تو اسلام آباد اور راولپنڈی کی سڑکوں پر ایک ایسا "کاک ٹیل" تیار ہوتا ہے جس میں بارود کی بو، پٹرول کا دھواں اور انسانی انا کا غبار برابر مقدار میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ رمضان المبارک کا وہ آخری پہر ہے جب نیکیوں کا گراف بلند ہو رہا ہوتا ہے اور بلڈ پریشر کا پارہ آسمان چھو رہا ہوتا ہے۔ آپ گاڑی کی سیٹ پر بیٹھے ہوں یا موٹر سائیکل کے ہینڈل تھامے ہوں، آپ کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ سڑک پر نہیں بلکہ کسی قدیم رومی اکھاڑے  میں موجود ہیں جہاں ہر دوسرا ڈرائیور آپ کا حریف ہے اور ہر لال بتی ایک ذاتی توہین۔

رمضان کے ان مبارک دنوں میں، جب صبر کی مشق ہونی چاہیے تھی، ہماری انا ہائی وے پر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی ہوتی ہے۔ یہ عجب تماشا ہے کہ جس پیٹ کو ہم نے اللہ کی رضا کے لیے خالی رکھا، اسی پیٹ میں جانے والی افطاری کے لیے ہم دوسرے کا راستہ کاٹتے، گالیاں دیتے اور قانون کو پیروں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔

رمضان کی ٹریفک کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عصر کے بعد ہر ڈرائیور خود کو "فارمولا ون" کا چیمپئن سمجھنے لگتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اگر وہ پانچ منٹ پہلے گھر نہ پہنچا تو شاید افطاری کا پورا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ اس عجلت میں وہ جس طرح گاڑی چلاتا ہے، اسے دیکھ کر عزرائیلؑ بھی سوچ میں پڑ جاتے ہوں گے کہ اس بندے کو ابھی اٹھاؤں یا افطاری کے بعد موقع دوں۔

ہمارے شہروں میں ٹریفک کا مسئلہ اب سڑکوں کی تنگی کا نہیں رہا، بلکہ یہ "ذہنی تنگی" کا شاخسانہ ہے۔ ایک چھوٹی سی کار میں بیٹھا شخص جب کسی بڑی ایس یو وی  کے سامنے آنے کی جرات کرتا ہے، تو بڑی گاڑی والے کی انا مجروح ہو جاتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس کے "ہارس پاور" کی توہین ہوئی ہے۔ پھر وہ کٹ مارنے، لائٹیں جلانے بجھانے اور ہارن کا وہ آرکسٹرا بجانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ خدا کی پناہ۔ یہاں غریب کا غصہ سستا اور امیر کی انا مہنگی ہے، مگر سڑک پر دونوں ایک ہی سطح کے "ٹریفک دہشت گرد" بن جاتے ہیں۔

مغرب سے آدھا گھنٹہ پہلے شہر کا ہر چوک ایک عجیب منظر پیش کرتا ہے۔ ٹریفک سگنل پر کھڑے لوگ یوں بے چین ہوتے ہیں جیسے سرخ بتی ان کے روزے کی دشمن ہو۔ جونہی پیلی بتی جھلکتی ہے، پیچھے سے ہارن کی ایسی آوازیں آتی ہیں جیسے کسی نے ایٹمی حملے کا سائرن بجا دیا ہو۔ حالانکہ سامنے والی گاڑی والا بھی انسان ہے اور وہ بھی گھر ہی جانا چاہتا ہے، مگر پیچھے والے کی انا اسے یہ یقین دلاتی ہے کہ اگر اس نے ہارن نہیں بجایا تو اگلی گاڑی وہیں مستقل قیام پذیر ہو جائے گی۔

یہ ہارن بجانا اب ضرورت نہیں، ایک قومی مشغلہ بن چکا ہے۔ ہم خوشی میں ہارن بجاتے ہیں، غصے میں ہارن بجاتے ہیں، اور رمضان میں تو شاید ثواب سمجھ کر بجاتے ہیں۔ یہ اس "باطنی شور" کی علامت ہے جو ہمارے اندر بسا ہوا ہے۔ جب انسان اخلاقی طور پر خالی ہو جاتا ہے، تو وہ شور کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ سڑک پر بجنے والا ہر بیجا ہارن دراصل ایک چیخ ہے جو بتاتی ہے کہ "دیکھو میں یہاں ہوں اور میری انا کو راستہ دو"۔

پاکستانی ڈرائیور کی انا کا سب سے بڑا مظاہرہ "ون وے" کی خلاف ورزی میں ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص غلط سمت سے گاڑی لے کر آتا ہے اور سامنے سے آنے والے درست ڈرائیور کو گھور کر دیکھتا ہے، تو وہ لمحہ دیکھنے والا ہوتا ہے۔ اس کی نظروں میں ایک عجیب سا تکبر ہوتا ہے، جیسے وہ کہہ رہا ہو، "میں تو غلط آ رہا ہوں، لیکن تم یہاں کیوں موجود ہو؟"

رمضان میں یہ رجحان اس لیے بڑھ جاتا ہے کیونکہ ہمیں "جلدی" ہوتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ روزہ رکھنے کے بعد ہمیں یہ لائسنس مل گیا ہے کہ ہم قانون کی دھجیاں اڑا سکیں۔ ہم عبادات میں تو حقوق اللہ پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر سڑک پر حقوق العباد کو کچلتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ اس لمحے ہماری انا ہمیں یہ پٹی پڑھاتی ہے کہ چونکہ ہم "روزے دار" ہیں، اس لیے پوری کائنات کو ہمارے لیے راستہ چھوڑ دینا چاہیے۔

کاش ہم ٹریفک میں پھنسے ہوئے کبھی اپنی گاڑی کے "ریئر ویو مرر"  میں اپنی شکل دیکھیں۔ وہ سرخ چہرہ، وہ ابھری ہوئی رگیں، وہ بے ہودہ کلمات جو ہم ایک نامعلوم اجنبی کے لیے ادا کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔کیا یہ وہی انسان ہے جو چند گھنٹے بعد جائے نماز پر بیٹھ کر آنسو بہائے گا؟

سڑک پر ہم وہ ہوتے ہیں جو ہم حقیقت میں ہیں، جبکہ محفلوں میں ہم وہ ہوتے ہیں جو ہم بننا چاہتے ہیں۔ ہماری اصلیت کا پتا ڈرائنگ روم کی گفتگو سے نہیں، بلکہ سگنل پر پھنسے ہوئے اس رویے سے چلتا ہے جو ہم اپنے سے کمزور گاڑی یا موٹر سائیکل والے کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ یہ وہ آئینہ ہے جس سے ہم سب کتراتے ہیں۔

شہر کی ٹریفک میں ایک اور مصیبت وہ "کالی شیشوں والی گاڑیاں" ہیں جن کے آگے پیچھے دو چار گارڈز کے ڈالے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ سڑک کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔ ان کی انا اتنی پھیل چکی ہوتی ہے کہ پوری شاہراہِ دستور بھی ان کے لیے تنگ پڑ جاتی ہے۔ ان کے لیے ٹریفک سگنل صرف عام شہریوں کے لیے "سجاوٹ" کی چیزیں ہیں۔ جب یہ پروٹوکول کے ساتھ گزرتے ہیں، تو پیچھے پھنسے ہوئے سینکڑوں روزے داروں کی آہیں اور بددعائیں ان کا تعاقب کرتی ہیں۔

مگر المیہ یہ ہے کہ جب ان گاڑیوں سے راستہ ملتا ہے، تو وہی "مظلوم" عام شہری کسی ریڑھی والے یا پیدل چلنے والے پر رعب جھاڑنا شروع کر دیتا ہے۔ یعنی انا کا ایک تسلسل ہے جو اوپر سے نیچے تک بہہ رہا ہے۔ ہر وہ شخص جس کے پاس تھوڑی سی طاقت (یا بڑی گاڑی) ہے، وہ اپنے سے کم تر کو دبانا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے۔

رمضان کا مقصد نفس کو کچلنا تھا، مگر ہم نے اسے نفس کو مزید "موٹا" کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ہم افطاری کے دسترخوان پر تو بہت سے رنگ سجاتے ہیں، مگر اپنے اخلاق میں کوئی رنگ پیدا نہیں کر پاتے۔ ٹریفک جام میں پھنس کر اگر ہم یہ سوچ لیں کہ سامنے والا بھی ہماری طرح پیاسا ہے، اس کے گھر میں بھی بچے اس کا انتظار کر رہے ہیں، اور وہ بھی اسی نظام کا ستایا ہوا ہے ۔تو شاید ہماری انا کا غبار تھوڑا کم ہو جائے۔

وہ جو کہا گیا ہے کہ "راستے سے پتھر ہٹانا صدقہ ہے"، آج کے دور میں اس کی جدید شکل یہ ہے کہ "کسی کو راستہ دے دینا سب سے بڑی نیکی ہے"۔ اگر آپ کسی بے چین ڈرائیور کو مسکرا کر راستہ دے دیں، تو یقین مانیں آپ کی انا کو جو سکون ملے گا وہ کسی کٹ مارنے یا گالی دینے میں نہیں مل سکتا۔

شہر کی ٹریفک ہماری قومی نفسیات کا عکس ہے۔ یہاں ہم ایک دوسرے کے ہم سفر نہیں، بلکہ حریف ہیں۔ رمضان کے مبارک مہینے میں جب ہم شیطان کو قید کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو ہمیں چاہیے کہ اپنی اس "انا کے جن" کو بھی تھوڑی دیر کے لیے بوتل میں بند کر دیں۔ سڑکیں تب تک کھلی نہیں ہوں گی جب تک ہمارے دل تنگ رہیں گے۔

آئیے اس رمضان میں یہ عہد کریں کہ ہم گاڑی صرف سڑک پر نہیں چلائیں گے، بلکہ اپنی انا پر بھی چلائیں گے۔ افطاری کے لیے پانچ منٹ دیر سے پہنچنا بہتر ہے اس سے کہ آپ کسی کے دل کو ٹھیس پہنچا کر یا کسی کا حق مار کر دسترخوان پر بیٹھیں۔ یاد رکھیے، اللہ کو آپ کی بھوک سے زیادہ آپ کے اخلاق کی پروا ہے۔ اور سڑک پر دکھایا گیا صبر، مسجد کے گوشے میں بیٹھ کر کی گئی تسبیح سے کہیں زیادہ کٹھن اور اجر والا عمل ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ