قصہ خوانی بازار یہ محض ایک بازار نہیں ہے، یہ زمان و مکاں کے درمیان ایک ایسا درز ہے جہاں تاریخ اپنی سانسیں روک کر نواردوں کا استقبال کرتی ہے۔ قصہ خوانی! نام ہی میں ایک طلسم ہے، جیسے کسی پرانی داستان کے پہلے صفحے پر لکھی ہوئی جادوئی عبارت۔ میں، جو خود کو ایک مسافر کہتا ہوں، درحقیقت وقت کی گرد میں گم ایک تماشائی ہوں۔ جب میں نے کابلی گیٹ سے اس بازار کے شکم میں قدم رکھا، تو مجھے محسوس ہوا جیسے میں کسی شہر میں نہیں، بلکہ ایک بہت بڑی، ضخیم اور قدیم کتاب کے اندر داخل ہو گیا ہوں۔ یہاں کی ہوا میں صرف دھول اور دھوئیں کا آمیزہ نہیں ہے، یہاں صدیوں پرانے قہقہوں، سسکاریوں، اور تانبے کے برتنوں کی کھنک کی خوشبو رچی بسی ہے۔ قصہ خوانی کی پہلی جھلک ایک ایسے بوڑھے سپاہی جیسی ہے جس نے بے شمار جنگیں دیکھی ہوں، مگر اس کی آنکھوں کی چمک ابھی ماند نہ پڑی ہو۔ بلند و بالا بالکونیاں جن کی لکڑی کے کام پر وقت نے اپنی لکیریں کھینچ دی ہیں، ایسے جھک کر نیچے دیکھتے ہجوم کو نہار رہی ہیں جیسے کوئی بوڑھی ماں اپنے شرارتی بچوں کو دیکھتی ہے۔ دائیں جانب قہوہ خانوں سے اٹھتا ہوا دھواں فضا میں رقص کر رہا تھا۔ یہا...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی