قصہ خوانی بازار
یہ محض
ایک بازار نہیں ہے، یہ زمان و مکاں کے درمیان ایک ایسا درز ہے جہاں تاریخ اپنی
سانسیں روک کر نواردوں کا استقبال کرتی ہے۔ قصہ خوانی! نام ہی میں ایک طلسم ہے،
جیسے کسی پرانی داستان کے پہلے صفحے پر لکھی ہوئی جادوئی عبارت۔
میں، جو خود کو ایک مسافر کہتا ہوں،
درحقیقت وقت کی گرد میں گم ایک تماشائی ہوں۔ جب میں نے کابلی گیٹ سے اس بازار کے
شکم میں قدم رکھا، تو مجھے محسوس ہوا جیسے میں کسی شہر میں نہیں، بلکہ ایک بہت
بڑی، ضخیم اور قدیم کتاب کے اندر داخل ہو گیا ہوں۔ یہاں کی ہوا میں صرف دھول اور
دھوئیں کا آمیزہ نہیں ہے، یہاں صدیوں پرانے قہقہوں، سسکاریوں، اور تانبے کے برتنوں
کی کھنک کی خوشبو رچی بسی ہے۔
قصہ خوانی کی پہلی جھلک ایک ایسے
بوڑھے سپاہی جیسی ہے جس نے بے شمار جنگیں دیکھی ہوں، مگر اس کی آنکھوں کی چمک ابھی
ماند نہ پڑی ہو۔ بلند و بالا بالکونیاں جن کی لکڑی کے کام پر وقت نے اپنی لکیریں
کھینچ دی ہیں، ایسے جھک کر نیچے دیکھتے ہجوم کو نہار رہی ہیں جیسے کوئی بوڑھی ماں
اپنے شرارتی بچوں کو دیکھتی ہے۔
دائیں جانب قہوہ خانوں سے اٹھتا ہوا
دھواں فضا میں رقص کر رہا تھا۔ یہاں قہوہ صرف مشروب نہیں، بلکہ گفتگو کا دیباچہ
ہے۔ پیتل کی بڑی بڑی سماواریں، جن کے پیٹ میں دہکتے کوئلے ایک ابدی تپش کا استعارہ
ہیں، غلغل مچاتی رہتی ہیں۔
میں نے ایک پرانے بینچ پر جگہ بنائی۔
میرے ساتھ ہی ایک بزرگ بیٹھے تھے جن کی پگڑی کا پیچ ان کے تجربات کی طرح پیچیدہ
تھا۔ ان کے چہرے پر جھریاں اتنی ہی گہری تھیں جتنی قصہ خوانی کی گلیاں۔
"بیٹا! تم یہاں کچھ ڈھونڈنے آئے ہو یا
کچھ چھوڑنے؟" بزرگ نے اپنی آنکھیں موندے ہوئے، بغیر میری طرف دیکھے پوچھا۔ ان
کی آواز میں وہ دھیما پن تھا جو صرف ان لوگوں کے پاس ہوتا ہے جنہوں نے خاموشی کو
پڑھنا سیکھ لیا ہو۔
میں نے مسکرا کر جواب دیا،
"بابا جی، مسافر تو ہمیشہ ڈھونڈنے ہی نکلتا ہے۔ کبھی راستہ، کبھی منزل، اور
کبھی خود کو۔"
انہوں نے ایک لمبا سانس لیا، قہوے کی
پیالی سے اٹھتی بھاپ کو اپنی سانسوں میں اتارا اور بولے، "یہ بازار بہت ظالم
ہے۔ یہاں قصے بکتے ہیں، مگر خریدنے والا اپنی حقیقت دے کر جاتا ہے۔ تم یہاں کہانی
لینے آئے ہو، تو یاد رکھنا، یہ تمہاری اپنی کہانی کا ایک باب چھین لے گا۔"
قصہ خوانی میں چلتے ہوئے آپ کو محسوس
ہوتا ہے کہ ہر چہرہ ایک انوکھا کردار ہے۔ وہ سامنے کھڑا کباب فروش، جس کے ہاتھ آگ
کے شعلوں کے ساتھ ایک عجب ہم آہنگی سے چل رہے ہیں، کیا وہ صرف گوشت بھون رہا ہے؟
نہیں۔ اس کی آنکھوں میں وہ تپش ہے جو شاید کسی ادھوری محبت یا کسی پرانے انتقام کی
آگ سے مستعار لی گئی ہے۔
پھر وہ کتب فروش، جو پرانی کتابوں کے
ڈھیر میں اس طرح چھپا بیٹھا ہے جیسے کوئی جوگی اپنی غار میں ہو۔ اس کی دکان میں
کاغذ کی سوندھی مہک کسی مے خانے کی بو سے زیادہ نشہ آور ہے۔ میں نے ایک بوسیدہ سی
کتاب اٹھائی تو اس نے عینک کے اوپر سے مجھے دیکھا۔
"صاحب! اسے مت چھوئیے، یہ کتاب نہیں،
ایک گزرے ہوئے عہد کی وصیت ہے۔ اسے صرف وہ پڑھ سکتا ہے جو لفظوں کے پیچھے چھپی
خاموشی کو سننا جانتا ہو۔" اس کے لہجے میں ایسی کاٹ تھی کہ میں نے خاموشی سے
کتاب وہیں رکھ دی۔
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ بازار
کی رونق میں ایک عجیب سا تلاطم پیدا ہو رہا تھا۔ یہاں رنگوں کا ایک تصادم ہے۔ جدید
جینز پہنے نوجوان جو اپنے آئی فونز میں مگن ہیں، اور وہ پختون مرد جن کی چادروں کے
پلو زمین کو چھوتے ہیں اور جن کی چال میں اب بھی وہ وقار ہے جو کبھی اس بازار کے
کاروانوں کا خاصہ تھا۔
میں ایک گلی کے موڑ پر رک گیا۔ وہاں
ایک دیوار پر پرانے اشتہارات کی تہیں جمی تھیں۔ میں نے سوچا کہ اگر میں ان تہوں کو
اکھاڑنا شروع کروں، تو شاید نیچے سے وہ اشتہار نکل آئے جو سمرقند اور بخارا سے آنے
والے تاجروں کے لیے لگایا گیا ہوگا۔
وہیں میری ملاقات ایک ادھیڑ عمر شخص
سے ہوئی جو شاید کوئی شاعر تھا یا پھر کوئی ناکام عاشق۔ اس نے ایک لمبا کرتہ پہن
رکھا تھا اور اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔
"مسافر! کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ
بازار 'قصہ خوانی' کیوں کہلاتا ہے؟" اس نے اچانک مجھ سے سوال کیا۔
میں نے جواب دیا، "سنا ہے یہاں
مسافر ٹھہرتے تھے اور داستان گو کہانیاں سناتے تھے۔"
وہ تلخی سے ہنسا۔ "داستانیں تو
اب بھی سنائی جاتی ہیں، بس اب سنانے والے بدل گئے ہیں۔ اب یہ دکانیں قصے سناتی
ہیں۔ یہ تانبے کے لوٹے، یہ چپلیں، یہ گرم گرم نان—یہ سب اپنی اپنی بپتا سناتے ہیں۔
فرق صرف یہ ہے کہ اب سننے والے بہرے ہو گئے ہیں۔ سب کو جلدی ہے، کسی کے پاس ٹھہرنے
کا وقت نہیں ہے۔"
"لیکن میں تو ٹھہرا ہوا ہوں،"
میں نے دھیمے لہجے میں کہا۔
اس نے میری آنکھوں میں جھانکا، جیسے
وہ میری روح کی گہرائی ناپ رہا ہو۔ "تمہارا جسم ٹھہرا ہے مسافر، تمہارا ذہن
اب بھی اگلے اسٹیشن کی فکر میں ہے۔ قصہ خوانی میں وہی داخل ہوتا ہے جو اپنا 'اگلا
لمحہ' کہیں باہر چھوڑ آئے۔ یہاں صرف 'اب' ہوتا ہے۔"
قصہ خوانی میں چلنا دراصل اپنی انا
کے بت کو پاش پاش کرنا ہے۔ یہاں آپ کی حیثیت کچھ نہیں ہے۔ آپ اس بہتے ہوئے دریا کا
ایک قطرہ ہیں جو صدیوں سے اسی راستے پر بہہ رہا ہے۔ یہاں کے پتھروں پر لاکھوں
پیروں کے نشانات ثبت ہیں، مگر کوئی نشان مستقل نہیں ہے۔
یہ بازار ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی
ایک عارضی قیام گاہ ہے۔ یہاں تاجر آتا ہے، اپنا مال بیچتا ہے، نفع یا نقصان سمیٹتا
ہے اور چلا جاتا ہے۔ پیچھے رہ جاتی ہے تو صرف ایک بو، ایک یاد، یا ایک قصہ۔
جدیدیت نے یہاں کی ظاہری شکل کو
بدلنے کی کوشش تو کی ہے—بجلی کے لٹکتے تاروں، پلاسٹک کی بوتلوں اور شور مچاتی موٹر
سائیکلوں کی صورت میں—مگر اس کی روح اب بھی وہی قدیم ہے۔ وہ روح جو ہر نئے آنے
والے کو یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ یہاں اجنبی نہیں ہے، بلکہ وہ اس عظیم انسانی
ڈرامے کا ایک حصہ ہے جو صدیوں سے یہاں کھیلا جا رہا ہے۔
چلتے چلتے میں اس مقام پر پہنچا جہاں
1930 کے شہداء کی یادگار ہے۔ اچانک فضا میں ایک بوجھل پن سا آگیا۔ مجھے لگا جیسے
ہوا میں اب بھی اس بارود کی مہک باقی ہے جس نے نہتے انسانوں کے خون سے اس مٹی کو
سینچا تھا۔
قصہ خوانی صرف رقص و سرور اور تجارت
کا مرکز نہیں رہا، یہ مزاحمت کی علامت بھی ہے۔ ان دیواروں نے وہ منظر بھی دیکھا ہے
جب برطانوی ٹینکوں کے سامنے لوگ سینہ تان کر کھڑے ہو گئے تھے۔
میں نے محسوس کیا کہ بازار کی رنگینی
کے پیچھے ایک گہرا کرب بھی چھپا ہے۔ یہاں کے ہر قہوے کی پیالی میں شاید تھوڑی سی
وہ تلخی بھی شامل ہے جو غلامی اور آزادی کی کشمکش سے پیدا ہوتی ہے۔
ایک بوڑھے دکاندار نے، جو تسبیح پڑھ
رہا تھا، میری کیفیت بھانپ لی۔ "بیٹا، یہ زمین خون پی کر سونا اگلتی ہے۔ یہاں
جو مسکرا رہا ہے، سمجھو اس نے اپنے دکھ کو جینے کا فن سیکھ لیا ہے۔"
اب سورج مکمل طور پر غروب ہو چکا تھا
اور بازار کی لائٹیں ایک عجیب سا طلسماتی نور بکھیر رہی تھیں۔ چپل کبابوں کی خوشبو
اب زیادہ تیز ہو گئی تھی، اور لوگوں کا ہجوم ایک لہر کی طرح کبھی ادھر تو کبھی
ادھر جا رہا تھا۔
میں نے محسوس کیا کہ میرا پاؤں اب
تھک رہے ہیں، مگر میرا تخیل اب بھی ان گلیوں میں بھٹک رہا ہے۔ میں نے سوچا کہ میں
اس بازار سے کیا لے کر جا رہا ہوں؟ کیا چند تصویریں؟ یا کچھ سوغاتیں؟
نہیں۔ میں یہاں سے ایک احساس لے کر
جا رہا ہوں۔ یہ احساس کہ ہم سب قصہ گو ہیں اور ہم سب ہی قصہ ہیں۔ ہم اس کائنات کے
عظیم بازار میں اپنی زندگی کی بساط بچھائے بیٹھے ہیں، اور ایک دن ہمیں بھی اپنی
دکان بڑھا کر اندھیرے میں گم ہو جانا ہے۔
میں نے واپسی کے لیے قدم اٹھائے تو
وہی پہلا بزرگ دوبارہ نظر آیا۔ وہ اب بھی وہیں بیٹھا تھا، شاید اب وہ کسی نئے
مسافر کے انتظار میں تھا۔
"تو کیا مل گیا جو ڈھونڈنے آئے
تھے؟" اس نے آواز دی.
میں نے مڑ کر دیکھا اور کہا،
"جی بابا جی، مجھے معلوم ہو گیا کہ کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی، بس سنانے والا
بدل جاتا ہے۔"
وہ خاموشی سے مسکرایا اور اپنی تسبیح
میں مگن ہو گیا۔
قصہ خوانی سے نکلتے ہوئے، جب میں نے
آخری بار اس کے ہنگاموں کی طرف دیکھا، تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ بازار ایک زندہ
وجود ہے۔ یہ سانس لیتا ہے، یہ ہنستا ہے، اور یہ روتا بھی ہے۔ یہ روایت اور جدت کا
وہ حسین سنگم ہے جہاں آپ کو اپنی جڑوں کی خوشبو آتی ہے اور مستقبل کی چاپ بھی
سنائی دیتی ہے۔
میں ایک مسافر تھا، اور رہوں گا۔ مگر
قصہ خوانی نے مجھے یہ سکھا دیا کہ سفر صرف فاصلوں کو طے کرنے کا نام نہیں ہے، سفر
تو اس کیفیت کا نام ہے جو آپ کے اندر کی دنیا کو بدل کر رکھ دے۔
آج کی رات، جب میں اپنے بستر پر
لیٹوں گا، تو میری بند آنکھوں کے سامنے وہی تانبے کی سماواریں، وہی قہوے کا دھواں،
اور وہی پرانی بالکونیاں رقص کریں گی۔ اور کہیں دور، پشاور کے قلب میں، قصہ خوانی
بازار اب بھی جاگ رہا ہوگا—اپنے نئے قصوں کو جنم دینے کے لیے، اور اپنے پرانے
رازوں کو سینے سے لگائے ہوئے۔
کیونکہ قصے کبھی نہیں مرتے۔ وہ صرف
مسافروں کے انتظار میں اپنی بساط بچھا کر بیٹھے رہتے ہیں۔

0 Comments