Skip to main content

ملکیت اور محبت

 محبت اور ملکیت



محبت کے عام انسانی تصورات اکثر ملکیت کے گرد گھومتے ہیں، لیکن کائنات کے وسیع کینوس پر بے لوثی کا ایک بالکل الگ رنگ بکھرا ہوا ہے جو ہم انسانوں کی سمجھ سے اکثر بالاتر رہتا ہے۔
آسمان کی نیلاہٹ میں تیرتے بادل کو دیکھیے؛ وہ کسی بنجر زمین پر برستا ہے تو یہ نہیں سوچتا کہ نیچے بسنے والے اس کے شکر گزار ہوں گے یا نہیں۔ وہ خود کو لٹا کر فنا ہو جاتا ہے تاکہ ہریالی کا جنم ہو سکے۔ بادل کا وجود ایک مسلسل ہجرت ہے، وہ مٹی سے محبت تو کرتا ہے مگر اس پر ٹھہر کر اسے بوجھل نہیں کرتا۔ کیا انسان کے پاس ایسا کوئی جذبہ ہے جو بغیر کسی معاوضے یا اعتراف کے خود کو مٹا دینے پر آمادہ ہو؟
پھر ان پرندوں کا مشاہدہ کریں جو شام ڈھلے بادلوں کے سائے میں اپنے گھونسلوں کو لوٹتے ہیں۔ پرندہ درخت کی شاخ پر بیٹھتا ہے تو شاخ کو اپنی ملکیت نہیں سمجھتا، اور جب وہاں سے اڑتا ہے تو شاخ پر اپنا کوئی نقش چھوڑنے کی ضد بھی نہیں کرتا۔ پرندے کی محبت پرواز سے ہے، کسی مستقل ٹھکانے سے نہیں۔ وہ جھیل سے پانی پیتا ہے اور بدلے میں اسے اپنی چہچہاہٹ کی صورت ایک نغمہ دے جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی تجارت ہے جس میں مادی نفع نقصان کا کوئی خانہ ہی موجود نہیں۔
انسان اس تکون میں سب سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ ہم محبت تو کرنا چاہتے ہیں مگر بادل کی طرح بے نشان رہنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ جہاں ہم برسیں، وہاں ہماری نام کی تختی لگ جائے۔ ہم پرندے کی طرح شاخ پر بیٹھنا تو چاہتے ہیں مگر اڑنے کے بعد اس شاخ کو کسی اور کے لیے خالی چھوڑنا ہمارے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہےکہ کیا محبت کسی دوسرے کی ضرورت پوری کرنے کا نام ہے، یا خود کو اس قدر وسیع کر لینے کا کہ 'میں' اور 'تو' کا فرق ہی مٹ جائے؟ بادل، پرندہ اور فطرت کے دیگر مظاہر ہمیں خاموشی سے یہ سمجھاتے ہیں کہ محبت کسی کو باندھنے کا نہیں بلکہ خود کو آزاد کرنے کا عمل ہے۔
کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ پرندہ شاخ کو چھوڑتے وقت مڑ کر کیوں نہیں دیکھتا؟ شاید اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ تعلق اگر سچا ہو تو بوجھ نہیں بنتا۔ انسان جس دن یہ سیکھ لے گا کہ کسی کے دل میں رہنے کے لیے وہاں قبضہ کرنا ضروری نہیں، بلکہ بادل کی طرح اس کی روح پر سایہ بن کر گزر جانا ہی معراج ہے، شاید اسی دن وہ محبت کو ضرورت کی قید سے رہا کر پائے گا۔ ہم کسی کو پا لینے کو جیت سمجھتے ہیں، جبکہ فطرت ہمیں سکھاتی ہے کہ خود کو کھو کر کسی کا عکس ہو جانا ہی اصل بقا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...